مریدکے ،عام انتخابات 2018ء کیلئے سیاسی تاریخ میں دلچسپ تبدیلیاں سامنے آگئیں

دو مرتبہ (ن) کی ٹکٹ سے ایم پی اے منتخب ہونے والے خرم اعجاز چٹھہ پی ٹی آئی کے امیدوار بن گئے پیپلز پارٹی کے سابق ایم پی اے حاجی مشتاق گجر (ن) لیگ کے امیدوار پنجاب اسمبلی بن کر میدان میں آگئے

ہفتہ جون 20:16

مریدکے (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) مریدکے کی تیس سالہ تاریخ میں دلچسپ سیاسی تبدیلیاں 2018ء کے الیکشن کیلئے سامنے آگئیں ،دو مرتبہ مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ سے ایم پی اے منتخب ہونے والے پنجاب اسمبلی کے سب سے کم عمر رکن رہنے والے چوہدری خرم اعجاز چٹھہ پی ٹی آئی کے امیدوار پنجاب اسمبلی بن گئے جبکہ پیپلز پارٹی کے سابق ایم پی اے حاجی مشتاق گجر (ن) لیگ کے امیدوار پنجاب اسمبلی بن کر سامنے آگئے ،پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے مقامی عہدیدار و کارکن حیران ہوگئے ۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے چوہدری خرم اعجاز چٹھہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پارٹی قیادت کے آگے اپنے ترقیاتی کام حلقہ کی عوام کی خواہش اور مشکل وقت میں ساتھ نہ چھوڑے جانے کی باتیں رکھیں مگر پارٹی نے ان کی ایک نہ مانی پھر انہوں نے اپنے حلقہ کی عوام کی خواہش پر سیاسی مستقبل کا تعین کیا اور پی ٹی آئی میں شامل ہوگیا پی ٹی آئی نے ان پر اعتماد کیا اور انہیں مریدکے پی پی حلقہ سے ٹکٹ دے دیا اسی طرح حاجی مشتاق گجر پیپلز پارٹی کو خیر باد کہ کر ن لیگ میں نہ صرف شامل ہوگئے ہیں بلکہ ن لیگ نے مریدکے حلقہ سے ان کو پنجاب اسمبلی کا امیدوار نامزد کردیا ہے حاجی مشتاق گجر کے بڑے بھائی چوہدری بشیر گجر پانچ مرتبہ پیپلز پارٹی کے ایم پی اے منتخب ہوئے ان کے انتقال کے بعد حاجی مشتاق گجر ایم پی اے بنے پیپلز پارٹی کا نام اس گھر کی وجہ سے مریدکے میں جانا جاتا تھا زووالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھتو جب بھی پنجاب سے تحریک کرتیں تو لانمبڑے ہاوس یعنی چوہدری بشیر گجر چوہدری مشتاق گجرکے گھر سے جلسہ کرکے آغاز کیا جاتا اب پیپلز پارٹی کا مریدکے میں صرف ایک ہی پرانا جیالہ پارٹی کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور وہ ہے سید تنویر حسین شاہ چوہدری خرم اعجاز چٹھہ کو پی ٹی آئی میں اچانک لئے جانے اور پارٹی ٹکٹ دئے جانے پر دیرینہ کارکن حیران اور پریشان بھی ہوئے ہیں دیرینہ کارکنوں کا کہنا ہے پارٹی کا فیصلہ سر آنکھوں پر مگر ان سے مشورہ ہی لے لیا جاتا الیکشن مہم میں پی ٹی آئی دھڑوں میں تقسیم بھی ہوسکتی ہے اور اس کے کئی سرکردہ افراد پی ٹی آئی کو خیر باد کہہ کر ن لیگ یا کسی اور پارٹی میں بھی جاسکتے ہیں تاہم این اے 119 میں دلچسپ بات یہ بھی معلوم ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدوار قومی اسمبلی بریگیڈئیر (ر) راحت امان اللہ اور مسلم لیگ ن کے امیدوار قومی اسمبلی رانا افضال حسین رشتے میں ماماں بھانجا لگتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے پی پی حلقہ 135 سے امیدوار عمر آفتاب ڈھلوں اور پی پی حلقہ 136 مریدکے شہر سے امیدوار خرم چٹھہ جو کہ دونوں پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں آپس میں نہ صرف کزن ہیں بلکہ عمر آفتاب ڈھلوں خرم اعجاز چٹھہ کے بہنوئی بھی ہیں خرم اعجاز چٹھہ نے سیاسی کیرئیر کا آغاز 2008 سے ن لیگ سے کیا پنجاب اسمبلی کے سب سے کم عمر رکن رہے 2008 کے انتخابات میں چوبیس ہزار سے زائد اور 2013 کے انتخابات میں 41000 سے زائد ووٹ حاصل کئے اسی طرح عمر آفتاب ڈھلوں نے پہلی مرتبہ 2013 کے انتخابات میں آزاد ایم این اے کا الیکشن لڑا اور چالیس ہزار سے زائد ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے حلقہ135 پی پی سے ن لیگ کے امیدوار حسان ریاض پہلے بھی ن لیگ کے ایم پی اے رہ چکے ہیں حلقہ کی عوام نے خرم چٹھہ کے پی ٹی آئی میں جانے پر ملے جلے خیالات کا اظہار کیا ہے۔