سانحہ ماڈل ٹائون، پولیس نے ایف آئی آر نمبر 510 افسروں کو بچانے کیلئے درج کی

مستغیث جواد حامد پر تین ہفتوں سے جرح جاری،شہباز شریف سانحہ میں ملوث ہیں،جواد حامد

ہفتہ جون 20:20

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں سانحہ ماڈل ٹائون استغاثہ کیس کی سماعت ہو ئی،مسلسل 3ہفتوں سے مستغیث جواد حامد کی چیف سٹیٹمنٹ پر ملزمان کے وکلاء کی جرح جاری ہے،گزشتہ روز اے ٹی سی میں جواد حامد نے جرح کے دوران بتایا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے بعد سانحہ میں ملوث پولیس افسران کو بچانے کیلئے پولیس نے مقتولین کے ورثاء کی ایف آئی آر کے اندراج سے انکار کیا اور عوامی تحریک کے کارکنوں پر ایف آئی آر نمبر 510 درج کی ،ایف آئی آر نمبر 510 جھوٹ پر مبنی ہے ۔

جواد حامد نے بتایا کہ ایف آئی آر نمبر 510 درج ہونے کے بعد بھی پولیس نے تفتیش کے آغاز سے لیکر اے ٹی سی میں چالان جمع کروانے تک انصاف کا قتل عام کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے جرح کے دوران کہا کہ ہمارے کارکن قتل کئے گئے اور ہمارے ہی کارکنوں کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کر لی گئی اس طرح کے ظلم کا دنیا میں کسی اور معاشرے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ،انہوں نے کہا کہ شہدائے ماڈل ٹائون کے ورثاء کے خلاف صرف جھوٹی ایف آئی آر ہی نہیں کاٹی گئی بلکہ ورثاء کو غیر جانبدار تفتیش کے حق سے بھی محروم کیاگیا،سانحہ سے متعلق اہم شواہد چھپائے گئے،انہوں نے کہا کہ چونکہ سابقہ وزیر اعلیٰ پنجاب سانحہ میں براہ راست ملوث تھے اس لئے انہوں نے انصاف کی فراہمی کے عمل میں روڑے اٹکائے،مزید سماعت 11جون کو ہو گی۔