راولپنڈی،متعدد گنجان علاقوں میں بجلی کی طویل غیر اعلانیہ بندش اورشدید گرمی سے معمولات زندگی مکمل جام

شہری علاقوں میں 18سی20گھنٹے تک بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے شہر میں پانی کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا بدترین صورتحال کے بعد واپڈا اور واسا حکام اپنے موبائل بند کر کے دفاتر سے بھی غائب ہو گئے ۔ عوام کی انتخابی امیدوراوں کو اپنے علاقوں میں آمد سے روکتے ہوئے انڈوں اور ٹماٹروں سے استقبال کے ساتھ سپریم کورٹ تک احتجاجی مارچ اور دھرنے کی دھمکی

ہفتہ جون 20:36

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) راولپنڈی کے متعدد گنجان علاقوں میں بجلی کی طویل غیر اعلانیہ بندش اورشدید گرمی سے معمولات زندگی مکمل طور پر جام ہو کر رہ گئے روزہ داروں کے سحری ، افطاری اور آخری عشرے کی طاق راتوں میں عبادت کے ساتھ معتکفین کی عبادت کا مزہ بھی کرکرا ہو گیاشہری علاقوں میں 18سی20گھنٹے تک بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے شہر میں پانی کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا شہر میں بدترین صورتحال کے بعد واپڈا اور واسا حکام اپنے موبائل بند کر کے دفاتر سے بھی غائب ہو گئے جبکہ بجلی کی بندش اور پانی کی قلت سے ستائے عوام نے انتخابی امیدوراوں کو اپنے علاقوں میں آمد سے روکتے ہوئے انڈوں اور ٹماٹروں سے استقبال کے ساتھ سپریم کورٹ تک احتجاجی مارچ اور دھرنے کی دھمکی دے دی صادق آباد ، مسلم ٹائون ، خرم کالونی ، محمدی کالونی ،آفندی کالونی ،ڈھوک کشمیریاں ،ڈھوک کالاخان ، ڈھوک رتہ ، سرسید چوک ، فیصل کالونی ، گلریز کالونی سمیت مختلف علاقوں میں6گھنٹے تک لگاتار بجلی کی بندش سے شہری سٹپٹا کر رہ گئے جس سے اکثر مساجد میں پانی نہ ہونے کے باعث شہری رمضان کی فیوض و برکات اور نماز سے بھی فیضیاب نہ ہو سکے اہلیان صادق آباد نے ایس ڈی او مسلم ٹائون اعجاز بٹ کو راولپنڈی کا کرپٹ اور نااہل ترین ایس ڈی او قرار دیتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے آغاز سے ساڑھی4لاکھ کی آبادی پر مشتمل علاقے میں ہر 30منٹ بعد2گھنٹے کے لئے بجلی بند کر دی جاتی ہے جس سے مردو خواتین گھروں یامیں مساجد میں نفلی عبادت تو کجا فرض نمازوں سے بھی محروم ہیں شہریوںکو گھروں اور مساجد میں سحری و افطاری اور وضو تک کے لئے پانی دستیاب نہیں ہے کسی بھی وقت بجلی کی بندش پر متعلقہ سب ڈویژن کا عملہ گرڈ سٹیشن میں خرابی کا عندیہ دے کر فون کر بند کر دیتا ہے متاثرہ علاقوںکے عوام کے مطابق رہی سہی کسر واسا نے نکال رکھی ہے ایم ڈی واسا کے تینوں نمبر یا تو بند ملتے ہیں یا ان سے کوئی جواب موصول نہیں ہوتا گنجان شہری علاقوں کو 24گھنٹے میں صرف1گھنٹے پانی میسر ہوتا ہے وہ بھی بجلی کی بندش کی نذر ہوجاتا ہے پانی کی شدید قلت کے باعث ٹینکر مافیا کی چاندی ہے اور ایم ڈی واسا کی ملی بھگت سے پرائیویٹ ٹینکر کی قیمت2ہزار روپے تک پہنچنے کے ساتھ پرائیوٹ فلٹرز پر پانی کی5لٹر بوتل کی قیمت 100روپے تک پہنچ چکی ہے اسی طر ح منر ل واٹرکی مستند کمپنیوں کا پانی بھی بلیک میں فروخت ہو رہا ہے شہریوں کے مطابق اس وقت ملک میں حکومت اور انتظامیہ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی جس سے قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں شہریوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملہ کا فوری نوٹس لے کرچیف جسٹس آئیسکو اور ایم ڈی واسا راجہ شوکت کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے فارغ کریں اور راولپنڈی میں پانی و بجلی کی بحالی کے لئے سخت احکامات جاری کریں ۔