پانچ دوستوں کی لازوال دوستی نیلم کے سرد پانیوں میں اختتام پذیر ہوگئی

سیر پر جانے والے 5 دوست نیلم وادی حادثہ میں دریا میں جا گرے تھے،چوتھے دوست کی لاش بھی نکال لی گئی،ایک دوست تاحال لاپتہ ہے

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس ہفتہ جون 22:10

پانچ دوستوں کی لازوال دوستی نیلم کے سرد پانیوں میں اختتام پذیر ہوگئی
فیصل آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار- 09 جون 2018ء ) :پانچ دوستوں کی لازوال دوستی نیلم کے سرد پانیوں میں اختتام پذیر ہوگئی۔ سیر پر جانے والے 5 دوست نیلم وادی حادثہ میں دریا میں جا گرے تھے،چوتھے دوست کی لاش بھی نکال لی گئی،ایک دوست تاحال لاپتہ ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ 13 مئی کو وادی نیلم میں پیش آنے والے حادثے میں متعدد نوجوانوں کی ہلاکت نے ہر ایک کو ہی سوگوار کر دیا تھا۔

ان ہلاک ہونے والوں میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے 5 نوجوان ایسے بھی تھے جو ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کے لازوال رشتے میں جڑے ہوئے تھے ،یہ دوستی ایسی بے مثال بنی کہ زندگی تو ساتھ گزری ہی تھی موت بھی ایک ساتھ مقدر ہوئی۔پل گرنے کے وقت یہ پانچوں دوست پل پر موجود تھے ۔پل ٹوٹنے سے یہ پانچوں نوجوان نالہ جاگراں میں جا گرے۔

(جاری ہے)

ان 5 دوستوں میں سے 3دوستوں کی لاشیں تو اسی وقت نکال لی گئی تھیں جبکہ ایک دو دوست احمد اور معظم نالہ جاگراں کے پانئ میں کھو گئے اور ایک عرصہ انکا سراغ نہ لگایا جا سکا۔

3روز قبل معظم کی لاش دریائے نیلم سے ملی تو اس کے گھر والوں کی آس بھی ٹوٹ گئی ۔کسی معجزے کے منتظر معظم کے لواحقین بھی غم میں ڈوب گئے ۔گزشتہ روز معظم کی لاش گھر پہنچی تو کہرام مچ گیا ،ہر آنکھ اشکبار تھی جبکہ معظم کے گھر والوں کے بین ہر صاحب دل کا جگر چیر رہے تھے۔معظم کی نماز جنازہ مسجد حرا میں ادا کر کے اس کی تدفین مقامی قبرستان میں کر دی گئی۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے معظم کے چچا کا کہنا تھا کہ وہ کسی معجزے کے منتظر تھے لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔انکا کہنا تھا یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ کم از کم ہمارا انتظار ختم ہو گیا اور تکلیف دہ وقت کے بعد آخر ہمیں اپنے بیٹے کی لاش دیکھنے کو ملی۔واضح رہے کہ اس پانچ دوستوں میں سے 4 دوست تو سفر آخرت پر روانہ ہو گئے ہیں لیکن احمد کا ابھی تک سراغ نہیں لگایا جا سکا اور احمد کے لواحقین ابھی تک کسی معجزے کے منتظر تکلیف دہ انتظار کا شکار ہیں۔یا درہے کہ گزشتہ ماہ 13 مئی کو وادی نیلم میں سیاحوں کی بڑی تعداد پل پر موجود ہونے کے باعث پل ٹوٹ گیا تھا جس کے باعث نالہ جاگراں پر بنا رابطہ پل ٹوٹنے سے 40 سیاح پانی میں ڈوب گئے تھے۔
پانچ دوستوں کی لازوال دوستی نیلم کے سرد پانیوں میں اختتام پذیر ہوگئی