بلوچستان میں شفاف انتخابات ہوتے دکھائی نہیں دے رہے،میر حاجی لشکری رئیسانی

ہفتہ جون 22:25

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما نوابزادہ میر حاجی لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں شفاف انتخابات ہوتے دکھائی نہیں دے رہے،خود کو بلوچستان کا وارث کہنے والے نام نہاد معتبرین کی مذمت کرتاہوں۔۔صوبائی اسمبلی کے فلور پرخواتین کو گالیاں دینا ہمارے صوبے کی روایت نہیں ایک فون کال پر یکجا ء ہونے والوں کو بلوچستان کی عزت ،وقار، روایات سے کوئی سروکار نہیں ہے، کوئے سلیمان سے لیکر جیونی کے ساحل تک بے روزگار ی، بدامنی ، روایت شکنی عام ہوچکی ہے۔

سینیٹ انتخابات میں اراکین اسمبلی نے ووٹ فروخت کرکے بلوچستان کی غیرت کا مذاق اڑایا،ماضی قریب میںجن سیاسی جماعتوں کی وجہ سے عوامی مسائل میں اضافہ ریاستی اداروں کی سازشوں کیخلاف لوگوںکے دلوں میں نفرتوںنے جنم لیاوہ لوگ کیسے صوبے کی قسمت کا فیصلہ کرسکتے ہیں، موجودہ صورتحال میں سیاسی قیادت ، کارکن، قبائلی عمائدین کو اپنے اکابرین کی تاریخ دہراتے ہوئے مادر وطن کے دفا ع کی سیاسی جنگ میں مخالفین کو شکست دینا ہوگی۔

(جاری ہے)

گزشتہ روز پارٹی قیادت اور کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نوابزادہ لشکری رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان تاریخ کے انتہائی افسوسناک دور سے گزررہا ہے۔اس عظیم بلوچستان جس کی عظمت ،وفاداری، وطن دوستی یہاں آباد ہمارے بزرگوں کی خیر خوائی ،روایات ،جرات ، وفاداری ہمت اوربہادری دنیا کے لیے ایک مثال تھی آ ج روایات کی امین اس سرزمین کی معتبری کرایہ پر دی جارہی ہے۔

فون کال پر ہزاروں لوگ لائن میں تقریروںپر تالیاں بجانے اور نعرے لگانے پہنچ جاتے ہیں۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے دیگر اسمبلیوںکے پارلیمان میں اپنی منفرد پہنچان رکھنے والی اسمبلی میں خواتین اراکین اسمبلی کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے اسمبلی کے وقار عزت بردباری کو پامال کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو درپیش مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچستان کے لوگوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے آبا اجداد کی طرح سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق کا دفاع کرینگے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں آئندہ انتخابات شفاف ہوتے دیکائی نہیں دے رہے تاہم سیاسی کارکن ہونے کے ناطے مایوس نہیں ہونگے اپنے سماج کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔