پاکستان کا افغان صدر کے طالبان کو تعاون کی پیشکش کا خیرمقدم

افغانستان میں جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ، وہاں امن و استحکام ہماری مشترکہ خواہش ہے، ہماری کامیابیوں کو سی پیک نے مزید تقویت پہنچائی، شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت افغان رابطہ گروپ کا قیام خوش آئند ہے، پاکستان نے دہشتگردی کا سدباب کر کے قیمتی تجربات حاصل کیے،پاکستانی تجربات سے ایس او سی فائدہ حاصل کرسکتی ہے، پاکستان میں امن و امان کی صورتحال مستحکم ہوئی ، کاروبار کیلئے صورتحال میں بہتری آئی، رواں سال جی ڈی پی کی شرح سب سے بلند رہی ہے‘ پاکستان نجی سرمایہ کاری کیلئے بھی بہترین منزل قرار پایا ہے، ہم مستقبل میں ترقی کی رفتار میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں، خطے کے تمام ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کی جائے، ایس سی او کے تحت غربت کے خاتمے پر توجہ دی جائے‘ دہشتگردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ترقیاتی فنڈ جیسا ادارہ قائم کیا جائے، رکن ممالک کے نوجوانوں کی صلاحیت کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں، اقوام عالم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سب ایک ہوں، دیرپا امن و استحکام کے لیے باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں صدر مملکت ممنون حسین کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس سے خطاب

اتوار جون 11:50

چھنگ تائو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ افغان صدر کی جانب سے طالبان کو تعاون کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہیں، افغانستان میں امن و استحکام ہماری مشترکہ خواہش ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت افغان رابطہ گروپ کا قیام خوش آئند ہے، پاکستان نے دہشت گردی کا سدباب کر کے قیمتی تجربات حاصل کیے،،پاکستان کے تجربات سے شنگھائی تعاون تنظیم فائدہ حاصل کرسکتی ہے، ، چند برسوں کے دوران پاکستان میں امن و امان کی صورتحال مستحکم ہوئی اور کاروبار کے لیے صورتحال میں بہتری آئی، رواں سال جی ڈی پی کی شرح گزشتہ دہائی میں سب سے بلند رہی ہے،،پاکستان نجی سرمایہ کاری کے لیے بھی بہترین منزل قرار پایا ہے، ہماری کامیابیوں کو سی پیک نے مزید تقویت پہنچائی، پاکستان اس لحاظ سے جنوبی ایشیا میں پہلے اور عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر ہے، ہم مستقبل میں ترقی کی رفتار میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں،، خطے کے تمام ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کی جائے، ایس سی او کے تحت غربت کے خاتمے پر توجہ دی جائے، دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ترقیاتی فنڈ جیسا ادارہ قائم کیا جائے، رکن ممالک کے نوجوانوں کی صلاحیت کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں، اقوام عالم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سب ایک ہوں، دیرپا امن و استحکام کے لیے باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں ۔

(جاری ہے)

شنگھائی تعاون تنظیم سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان اورافغانستان دوطرفہ بنیادوں پر جامع لائحہ عمل پر کام کر رہے ہیں، افغانستان میں امن ہماری مشترکہ خواہش اور افغانستان میں جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے، پاکستان امن و استحکام کیلیے ہمیشہ کی طرح تعاون جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے طالبان کو تعاون کی پیشکش کاخیرمقدم کرتے ہیں، پاکستان اورافغانستان دو طرفہ بنیادوں پرجامع لائحہ عمل کے تحت کام کررہے ہیں، پاکستان میں کاروبار کیلیے صورتحال میں بہتری آئی اور چند برسوں کے دوران پاکستان میں امن و امان کی صورتحال مستحکم ہوئی ہے، ہم ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سرخرورہے ہیں۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان کے تجربات سے شنگھائی تعاون کی تنظیم(ایس سی او)فائدہ حاصل کرسکتی ہے، پاکستان نے دہشت گردی کاسدباب کر کے قیمتی تجربات حاصل کیے ہیں، پاکستان میں جمہوری اقدار اور ادارے مضبوط ہوئے ہیں، امید ہے الیکشن کے بعد پاکستان میں مزید اقتصادی استحکام آئے گا جب کہ پاکستان کی کامیابیوں کو سی پیک نے مزید تقویت پہنچائی ہے، پاکستان اس لحاظ سے جنوبی ایشیا میں پہلے اور عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نجی سرمایہ کاری کیلیے بہترین منزل قرار پایاہے، پاکستان کی کارکردگی بین الاقوامی اداروں میں مثبت طور پر ریکارڈ ہوئی ہے، اس سال جی ڈی پی کی شرح گزشتہ دہائی میں سب سے بلند رہی ہے، پاکستان میں کاروبار کیلیے صورتحال میں بہتری آئی ہے،،پاکستان میں سروسز اور ذراعت کے شعبوں میں ترقی قابل ذکر ہے۔۔صدر مملکت نے سی پیک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک نے پاکستانی معیشت کو مزید تقویت پہنچائی، دیرپا امن واستحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کیلیے خصوصی اقدامات کیے جائیں،خصوصی اقدامات سے خطے کے ملکوں میں تجارت، اقتصادی سرگرمیاں فروغ پاسکیں گی، خطے کے تمام ترقیاتی منصوبوں خصوصا مواصلات کے شعبے کی حمایت کی جائے، شنگھائی جذبے کے تحت ترقی میں شراکت کے رہنما اصول کومد نظر رکھاجائے،اس سلسلے میں ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔