ہاں میں نے جرمن لڑکی کو قتل کیا،گرفتار عراقی مہاجر نے اعتراف جرم کرلیا

ملزم کی لڑکی سے دوستی تھی ،کسی بات پر تنازعہ ہوا جس پر علی نے طیش میں آکر قتل کردیا،عراقی پولیس اہلکار کی گفتگو

اتوار جون 12:30

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) عراقی نوجوان علی نے تسلیم کر لیا ہے کہ اس نے جرمنی میں بطور مہاجر اپنے قیام کے دوران ایک چودہ سالہ جرمن لڑکی کو قتل کیا تھا۔ اسے جمعے کے دن ہی عراق میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کیس پر جرمنی میں عوامی غم و غصہ نمایاں ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق عراقی علاقے کردستان کے حکام نے بتایا کہ بیس سالہ علی نے ایک جرمن لڑکی کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

علی پر الزام ہے کہ اس نے جرمن شہر ویزباڈن میں اس چودہ سالہ لڑکی کو جنسی حملے کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔ طبی رپورٹوں کے مطابق اس لڑکی کی موت گلا گھونٹ دینے کے باعث ہوئی تھی۔ جرمن پولیس نے مقتولہ کا نام سوزانے ماریہ ایف بتایا ہے۔کردستان کے شہر دہوک میں پولیس اہلکار طارق احمد نے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد کی جانے والی ابتدائی تفتیش کے دوران اس نوجوان نے اعتراف جرم کر لیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ علی کا تعلق بنیادی طور پر کردستان سے ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم علی کے مطابق جرمن لڑکی اس کی دوست تھی، لیکن کسی بات پر تنازعہ ہوا اور اس لڑکی نے پولیس کو ٹیلی فون کرنے کی دھمکی دی تو ملزم نے اپنی اس دوست کو قتل کر دیا۔اس واردات کے بعد علی اپنے کنبے سمیت جرمنی سے فرار ہو گیا تھا۔ جرمن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے معلوم کر لیا تھا کہ وہ واپس اپنے وطن لوٹ چکا ہے اور یوں عراقی سکیورٹی اداروں کے تعاون سے اس کی گرفتاری ممکن ہو سکی۔ عراقی حکام نے بتایا کہ اس ملزم کو جرمنی کے حوالے کرنے کی غرض سے دفتری کارروائی جاری ہے تاکہ اس کے خلاف جرمنی میں باقاعدہ قانونی کارروائی ممکن ہو سکے۔