تہاڑ جیل میں کشمیری نظربندوں کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہی: فاروق ڈگہ

گھر پہنچنے پر فاروق ڈگہ نے سات سال کے بعد پہلی بار اپنے اہلخانہ کو دیکھ لیا

اتوار جون 13:10

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں سات سال سے زائدکا عرصہ گزارنے کے بعد کپواڑہ میں اپنے گھر پہنچنے والے فاروق احمد ڈگہ کا کہنا ہے کہ تہاڑ جیل میں کشمیری نظربندوں کی صورتحال دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق 51سالہ ڈگہ کو ایک جھوٹے کیس میں سزا سنانے کے بعد جیل سے رہا کیاگیا۔

وہ عدالت کی طرف سے سنائے جانے والے سزا سے زائد عرصہ پہلے ہی جیل میں گزارچکے تھے۔ انہو ں نے کہاکہ جیل میں نظربند تقریباًتمام کشمیری علیل ہیں اور انہیں خال خال ہی طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری نظربندوں کی کوئی نہیں سنتاہے۔ فاروق احمد ڈگہ کو دہلی پولیس کی سپیشل سیل نے 2011ء میں گرفتار کرکے این آئی اے کے حوالے کیاتھا۔

(جاری ہے)

این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت نے پیر کو فاروق ڈگہ اور دو دیگر افراد محمد صدیق گنائی او ر غلام جیلانی للوکو سات سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔تاہم ڈگہ عدالت کی طر ف سے سنائی جانے والی سزا سے پانچ ماہ زیادہ پہلے ہی جیل میں گزارچکے تھے ۔ انہو ںنے کہاکہ وہ گزشتہ روز گھر پہنچے اور سات سال کے بعد پہلی بار اپنے اہلخانہ کو دیکھ لیاہے۔ غربت کی وجہ سے ان کے دو بچے اور اہلیہ ڈگہ سے ملنے دہلی نہیں جاسکے ۔

انہوںنے کہاکہ تہاڑ جیل میں وہ آرتھوپیڈک مسائل کا شکارہوگئے ہیں اور دونوں گھٹنوں میں شدید درد کی وجہ سے وہ صحیح طریقے سے چل نہیں سکتے۔ انہوں نے کہاکہ جیل میں ان کے سات دانت نکالے گئے۔ انہوں نے کہاکہ دانتوں میں معمولی درد ہوتا تھا اورطبی عملہ کسی جانچ کے بغیر ان کو نکال دیتے تھے۔

متعلقہ عنوان :