افغان صدر کی جانب سے طالبان کو تعاون کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہیں ،ْصدر ممنون

پاکستان نے دہشت گردی کا سدباب کر کے قیمتی تجربات حاصل کیے ہیں ،ْ ایس سی او فائدہ حاصل کرسکتی ہے ،ْ صدر مملکت چند برسوں کے دوران پاکستان میں امن و امان کی صورتحال مستحکم ہوئی اور کاروبار کے لیے صورتحال میں بہتری آئی ہے ،ْخطے کے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود کے لیے 5 نکاتی ترجیحات کا تعین ضروری ہے، خطے کے تمام ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کی جائے ،ْ شنگھائی تعاون کانفرنس سے خطاب دہشتگردی و انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے ترقیاتی فنڈ جیسا ادارہ قائم کیا جائے، رکن ممالک کے نوجوانوں کی صلاحیت کیلئے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں ،ْ تجویز

اتوار جون 13:20

شنگھائی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ افغان صدر کی جانب سے طالبان کو تعاون کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام ہماری مشترکہ خواہش ہے جس کیلئے پاکستان ہمیشہ کی طرح تعاون جاری رکھے گا۔صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دو طرفہ بنیادوں پر جامع لائحہ عمل کے تحت کام کر رہے ہیں ،ْ شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت افغان رابطہ گروپ کا قیام خوش آئند ہے۔

صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان نے دہشت گردی کا سدباب کر کے قیمتی تجربات حاصل کیے ہیں اور پاکستان کے تجربات سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او ) فائدہ حاصل کرسکتی ہے، ہم ذمے داریوں کی ادائیگی میں سرخرو رہے ہیں۔

(جاری ہے)

صدر ممنون حسین نے کہا کہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں امن و امان کی صورتحال مستحکم ہوئی اور کاروبار کے لیے صورتحال میں بہتری آئی ہے، رواں سال جی ڈی پی کی شرح گزشتہ دہائی میں سب سے بلند رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کارکردگی بین الاقوامی اداروں میں مثبت طور پر ریکارڈ ہوئی اور پاکستان نجی سرمایہ کاری کے لیے بھی بہترین منزل قرار پایا ہے ،ْہماری کامیابیوں کو سی پیک نے مزید تقویت پہنچائی ہے۔صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان اس لحاظ سے جنوبی ایشیا میں پہلے اور عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر ہے، ہم مستقبل میں ترقی کی رفتار میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ سرمایہ کاری ،تجارت، ای کامرس، ریلوے اور سیاحت کے فروغ کو ایس سی او کے اقدامات مضبوط بنا سکتے ہیں، خطے کے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود کے لیے 5 نکاتی ترجیحات کا تعین ضروری ہے، خطے کے تمام ترقیاتی منصوبوں کی حمایت کی جائے۔صدر ممنون حسین نے تجویز دی کہ ایس سی او کے تحت غربت کے خاتمے پر توجہ دی جائے اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے ترقیاتی فنڈ جیسا ادارہ قائم کیا جائے، رکن ممالک کے نوجوانوں کی صلاحیت کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ اقوام عالم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سب ایک ہوں، دیرپا امن و استحکام کے لیے باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں جس سے خطے کے ملکوں میں تجارت اور اقتصادی سرگرمیاں فروغ پاسکیں۔