چیف جسٹس کاخدیجہ صدیقی کےمعاملے پرہائی کورٹ بارکی قرارداد پر اظہار برہمی

اگرکسی وکیل کی بیٹی کےساتھ ایساہوتا تو کیا آپ کا رویہ یہی ہوتا؟چیف جسٹس کا ملزم کے والد سے استفسار

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار جون 13:22

چیف جسٹس کاخدیجہ صدیقی کےمعاملے پرہائی کورٹ بارکی قرارداد پر اظہار ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔10جون 2018ء) سپریم کورٹ نےخدیجہ صدیقی حملہ کیس سےمتعلق ازخودنوٹس کیس نمٹادیا۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثارنے خدیجہ کیس کی فائل جسٹس آصف سعید کھوسہ کوبھجوادی ہے۔مئی 2016میں خدیجہ صدیقی پرتھانہ ریس کورس کےعلاقےمیں حملہ کیاگیاتھا۔ حملےسےخدیجہ صدیقی شدید زخمی ہوگئی تھی۔جوڈیشل مجسٹریٹ نےمقدمےکافیصلےسناتےہوئےمجرم شاہ حسین کوقید کی سزاسنائی تھی۔

تاہم ملزم نے اپنی سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی جس پر فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ نے مقامی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور ملزم کو باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ جس کا چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا تھا۔۔چیف جسٹس نے خدیجہ صدیقی کےمعاملےپرہائی کورٹ بارکی قرارداد پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

(جاری ہے)

دوران سماعت چیف جسٹس نے ملزم کے والد سے سوال کیا کہ آپ نےعدالت کےخلاف مہم کس طرح چلائی؟چیف جسٹس نے یہ بھی سوال کیا کہ اگرکسی وکیل کی بیٹی کےساتھ ایساہوتاتو کیا آپ کا رویہ یہی ہوتا؟۔

چیف جسٹس نے ملزم کے والد سے استفسار کیا کہ آپ نےسپریم کورٹ کےخلاف قراردادکیسےپاس کروائی۔جب کہ دوسری طرف خدیجہ کے وکیل بیرسٹر حسان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے نوٹس لیا ہے انصاف ضرورملےگا،۔جب کہ خدیجہ نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کے حصول میں حمایت کرنےوالوں کی مشکور ہوں۔یاد رہے کہ 2 سال پہلےلاہور میں قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر اس کے ہم جماعت شاہ حسین نے حملہ کیا تھا۔

ملزم نے خدیجہ کی چھوٹی بہن کے سامنے خنجروں سے حملہ کردیا تھا۔ مجرم نے خدیجہ پر خنجر کے 23 وار کیے جس سے خدیجہ شدید زخمی ہوئی تھی تا ہم اس حملے میں اس کی جان بچ گئی ۔جس کے بعد اس نے بڑے باپ کے بگڑے ہوئے بیٹے کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور اس کے خلاف کیس کر دیا جس کی سماعت لاہور کی مقامی عدالت میں ہوئی تھی ۔ اس سارے عرصے میں خدیجہ صیقی کو کافی مشکلات ،دباو اور ملزمان کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن خدیجہ ڈٹی رہی۔