آج آزاد کشمیر کے شہری پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے جبراً محروم ہیں ‘ حکمرانوں کی عوام دشمنی اور بے حسی کی انتہا ہے کہ بارہ بارہ گھنٹوںسے زائد بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے

جموں کشمیر ورکرز پارٹی کے مرکزی صدر رضوان کرامت کا افطار پارٹی سے خطاب

اتوار جون 15:40

میرپور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) آج آزاد کشمیر کے شہری پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے جبراً محروم ہیں ۔ حکمرانوں کی عوام دشمنی اور بے حسی کی انتہا ہے کہ بارہ بارہ گھنٹوںسے زائد بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ کئی کئی دنوں تک پانی کانام و نشان نہیں۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ اور بجلی کی 24گھنٹے فراہمی، گھریلو بجلی بالکل مفت، اور وافر مقدار میں پانی کی فراہمی کو ہر حال میں یقینی بنائیں۔

ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر ورکرز پارٹی کے مرکزی صدر رضوان کرامت نے افطار پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ انھوں نے کہا آج اکیسویں صدی میں مغرب میں شہریوں کو تمام بنیادی انسانی سہولیات حاصل ہیں۔ وہاں پانی،، بجلی ، صحت ، معیاری تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کئی صدیاں پہلے مہیا کر دی گئی تھی۔

(جاری ہے)

آج ان جدید معاشروں میں یہ سوالات کہ ہمارے گھرمیں پانی نہیں آتا۔

ہر گھنٹے بعد بجلی چلی جاتی ہے۔ ہمیں جھوٹی تاریخ پڑھائی جا رہی ہے۔ جسکی وجہ سے ہماری نسلیں فرقہ واریت، لسانی تقسیم اور مذہبی جنونیت کا شکار ہو رہی ہیں۔ ہمارا عزیز جدید علاج نہ ہونے کی وجہ سے وقت سے پہلے زندگی کی بازی ہار گیا۔ ان جدید معاشروں کے شہریوں کی سمجھ میں بھی نہیں آسکتا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ کہ بجلی بند ہو جائے یا کئی کئی دن پانی نہ آئے۔

پیسے نہ ہونے یا علاج کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی شخص زندگی کی بازی ہار جائے۔ انھوں نے کہا کہ آج ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم شہریوں کو بتائیں کہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی نمائندہ سیاسی پارٹیوں کو صرف اپنے طبقہ کے مفادات سے غرض ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر پارٹی اپنے طبقہ کی نمائندہ ہوتی ہے۔ اس لیے جب تک شہری جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی نمائندہ سیاسی پارٹیوں کے اصل کردار کونہیں جانے گے اور اپنے طبقہ کے مفادات کے لیے سیاسی پارٹی کی تعمیر نہیں کریں گے ۔

ایک ایسی سیاسی پارٹی جو پسے ہوئے ، کچلے ہوئے تمام بنیادی شہری سہولیات سے محروم شہریوں کی نمائندہ سیاسی پارٹی ہو اور اس کی سیاسی طاقت نہیں بنیں گے اس وقت تک بنیادی شہری سہولیات سمیت سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر حاصل کردہ جدید سہولیات سے مستفید نہیں ہو سکیں گے انھوں نے کہا کہ آج ورکرز پارٹی جہاں شہریوں کے بنیادی سہولیات پانی بجلی ، سوئی گیس ، صحت سمیت دیگر سہولیات کی بازیابی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

وہاں رکشہ ڈرائیورز ، ریڑی بان، طلباء ، فیکٹری ورکرز، پرائیویٹ ٹیچرز، ڈس ایبل ورکرز، تاجر، اور خواتین سمیت مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو سیاسی و نظریاتی طور پر آرگنائزر کر رہی ہے۔ ہمیں یقین محکم ہے کہ ایک دن ہم پوری کشمیری قوم اور اس سے ملحقہ قومیتوں کو سیاسی ، سماجی اور معاشی طور پر آرگنائزکریں گے۔ اور ریاست جموں کشمیر کے عوام ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہوں گے جو ہر طرح کے تعصب سے پاک ہو گا ۔

جہاں کسی قسم کا کوئی طبقاتی تضاد نہ ہو گا۔ بلکہ تمام عوام برابر ہوں گے۔ کوئی امیر اور غریب نہ ہو گا۔ تمام شہری کام کریں گے۔تمام بنیادی سہولیات تمام عوام کو بلا امتیاز حاصل ہوں گی۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں انصاف تمام عوام کو حاصل ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے عوام اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

اور آرڈر 2018ء جس کے ذریعے گلگت، بلتستان کے عوام کے تمام سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق ختم کر دئیے گئے ہیں۔ یہ آرڈر ایک کالا آرڈر ہے۔ جسکی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اس آرڈر کو کالعدم قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کے حکمران طبقات اگر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام سے مخلص ہیں تو ان علاقوں پر مشتمل آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اور یہاں کی عوام کو سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر مکمل آرڈر دے۔ افطار پارٹی سے مرکزی جنرل سیکرٹری خاور شریف ایڈووکیٹ ، مرکزی سینئر نائب صدر راشد محمود ایڈووکیٹ، ضلعی آرگنائزر لئیق احمد ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا ۔ تلاوت قرآن پاک کی سعادت JKWSOکے ذیشان منور نے حاصل کی۔