طالبان حملوں میں 65 سے زائد افغان فوجی ہلاک ہو ئے

طالبان نے حملوں کی ذمے داری قبول کر لی ، متعدد سکیورٹی چوکیوں پر دھاوا بولا اور فوجی اسلحہ قبضے میں لے لیا، طالبان کا دعویٰ

اتوار جون 15:40

کابل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) افغانستان میں طالبان کے تین حملوں میں 65 فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوئے،،طالبان نے حملوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے متعدد سکیورٹی چوکیوں پر دھاوا بولا اور فوجی اسلحہ قبضے میں لے لیا۔ افغان حکام کے مطابق گزشتہ رات جنوبی قندھار، شمالی قندوز اور مغربی ہیرات صوبوں میں تشدد کی کارروائیاں ہوئیں جن میں 17 سے زائد سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

علاقائی فوجی ترجمان کے حوالے سے، مقامی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ طالبان باغیوں نے قندھار کے شاہ ولی کوٹ ضلعے میں افغان قومی فوج پر دھاوا بول دیا۔ میجر خواجہ یحی علوی نے افغان خبر رساں ادارے، 'پژواک' کو بتایا کہ حملے کے نتیجے میں 25 فوجی ہلاک،، جب کہ دیگر متعدد لاپتا ہیں۔

(جاری ہے)

طالبان کے ایک ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ اس کے لڑاکوں نے 35 فوجیوں کو ہلاک کیا جب کہ مزید چھ کو پکڑ لیا، اور فوجی گاڑیوں اور ہتھیاروں پر قبضہ کرلیا ہے۔

باغیوں کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد کا دعوی اکثر مبالغہ آرائی پر مشتمل ہوتا ہے۔قندوز میں صوبائی حکام نے بتایا ہے کہ جمعے کی رات گئے قلع زال میں واقع پولیس کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں وہاں تعینات 24 اہل کار ہلاک ہوئے۔ایک سرکاری ترجمان نے 'وائس آف امریکہ'' کو بتایا کہ مزید ہلاکتیں اس وقت واقع ہوئیں جب تقریبا 150 طالبان عسکریت پسندوں نے زاول کے نئے تشکیل شدہ ضلعے میں افغان قومی فوج کی چوکیوں پر دھاوا بولا، جس دوران 17 فوجی ہلاک ہوئے۔۔طالبان نے ان دونوں حملوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے متعدد سکیورٹی چوکیوں پر دھاوا بولا اور فوجی اسلحہ قبضے میں لیا، جس میں ہتھیار شامل ہیں۔