جاپانی بلٹ ٹرین میں چاقو سے حملہ ایک شخص ہلاک، دو زخمی،ملزم گرفتار

ذہنی طورپر پریشان تھا اورکسی کی جان لینا چاہتا تھا ،گرفتارملزم کا اعتراف جرم،مزیدتفتیش جاری

اتوار جون 15:50

ٹوکیو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) جاپان کی انتہائی تیز رفتار بلٹ ٹرین میں ایک مسلح شخص نے چاقو سے وار کر کے ایک شخص کو ہلاک اور دو دیگر کو زخمی کر دیا۔ گرفتار کر لیے گئے مشتبہ ملزم نے اعتراف کر لیا ہے کہ وہ پریشان تھا اور کسی کی جان لینا چاہتا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ملزم کی عمر 22 سال ہے اور اس نے پولیس کو اپنا نام ایچیرو کوجیما بتایا ہے۔

یہ حملہ آور ٹوکیو سے مغرب کی طرف اوداوارا کے مقام پر اس وقت یکدم اس ٹرین میں گھس گیا تھا، جب یہ ریل گاڑی وہاں کے ریلوے اسٹیشن پر رکی تھی۔۔پولیس نے بتایا کہ یہ حملہ رات گئے کیا گیا، جب ٹوکیو سے اوساکا جانے والی اس ہائی اسپیڈ ٹرین کے کئی مسافر سو رہے تھے یا نیم خوابیدہ تھے۔ ملزم کو فوری طور پر مسلح حالت میں گرفتار کر لیا گیا، تاہم تب تک وہ ایک مسافر کی جان لینے کے علاوہ دو دیگر کو زخمی بھی کر چکا تھا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ ملزم کوجیما کو جب گرفتار کیا گیا، اس وقت وہ ایک ایسے زخمی مسافر کے اوپر گرا ہوا تھا، جو بے ہوش ہو چکا تھا۔ اس شخص کی ایک ٹانگ بھی چاقو سے کیے گئے حملے میں زخمی ہو گئی تھی اور اسے گردن پر بھی شدید زخم آئے تھے۔ بعد ازاں یہ 38 سالہ زخمی مسافر انتقال کر گیا۔اس حملے میں دو نوجوان خواتین بھی زخمی ہوئیں تاہم ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ان دونوں زخمی مسافروں نے بتایا کہ اس حملے کے دوران بلٹ ٹرین میں سوار مسافروں میں شدید خوف پھیل گیا تھا۔ حکام کے مطابق اس ریل گاڑی میں قریب 800 مسافر سوار تھے۔گرفتاری کے بعد پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزم کوجیما نے پولیس کو بتایا کہ وہ پریشان تھا اور بس کسی کو مار دینا چاہتا تھا۔ پولیس کو ریل گاڑی میں حملے کی جگہ سے کم از کم دو چاقو بھی ملے، جو اس حملے میں استعمال کیے گئے تھے۔جاپان دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے اور صنعتی طور پر ترقی یافتہ دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک ہے، جہاں پرتشدد حملوں اور ہلاکت خیز جرائم کی شرح انتہائی کم ہے۔