سردار خالد ابراہیم خان کو اداروں کی تضحیک نہیں کرنی چاہئے وہ خود کو ایک بڑا اصول پسند سیاستدان کہلواتے ہیں ‘دوسری طرف انہوں نے ریاست کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس پر غیر آئینی،غیر قانونی الزامات عائد کر کے جو گھنائونا اقدام کیا ہے اُس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے

آزاد کشمیر کے سینئر وکلاء راجہ خورشید ‘محمد مشتاق خان ‘راجہ عبدالحمید خان ایڈووکیٹ کا مشترکہ بیان

اتوار جون 15:50

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) آزاد کشمیر کے سینئر وکلاء راجہ خورشید خان سابق سیکرٹری جنرل تحصیل بار پٹہکہ،محمد مشتاق خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ،،راجہ عبدالحمید خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سردار خالد ابراہیم خان کو اداروں کی تضحیک نہیں کرنی چاہئے وہ خود کو ایک بڑا اصول پسند سیاستدان کہلواتے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے ریاست کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس پر غیر آئینی،غیر قانونی الزامات عائد کر کے جو گھنائونا اقدام کیا ہے اُس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

خالد ابراہیم کو یہ کیوں نظر نہیں آیا کہ اگر اس ریاست کا سابق وزیراعظم اور عالمی سطح پر پہچان رکھنے والے بیرسٹر سلطان عدالت کے سامنے حاضر ہوئے تو لوگوں نے انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جبکہ خالد ابراہیم تو شریعت کورٹ میں اپنی برادری کے جج سردار نواز کو تعینات کرانے کیلئے خود اُس میٹنگ میں موجود رہے جس کے واضح ثبوت موجود ہیں اور عدالتی ریکارڈ میں 1998پی ایل جے صفحہ نمبر 194ریکارڈ پر ہے جس کی کوئی تردید نہیں کر سکتا،ان رہنمائوں نے کہا کہ خالد ابراہیم اس وقت اداروں کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ان کے مذموم مقاصد کو ریاست کے غیور عوام اور وکلاء کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

(جاری ہے)

ان رہنمائوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں ہونے والی ججز بھرتیاں مکمل آئینی اور قانونی ہیں جس پر تنقید بلاجواز ہے،انہوں نے کہا کہ خالد ابراہیم اُس وقت کیوں نہ بولے کچھ عرصہ قبل ایک ایڈھاک جج بھی تعینات ہوا ہے،ہمیں خالد ابراہیم کے میرٹ کی سجھ نہیں آتی،آزاد کشمیر کی وکلاء برادری سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہے۔