عجلت میں ایکٹ 74میں ترامیم ڈرمائی وفاقی حکومت کی مدت ختم ہونے سے آدھ گھنٹہ قبل مسودہ تیار کرکے عوام کو بیوقوف بنایا گیا ‘آزادکشمیر میں دھاندلی کے زریعے نوازلیگ کو اقتدا ر میں لانے کا مقصد آزادکشمیر کی حیثیت کو ختم کرنا ہے

مسلم کانفرنس کے مرکزی رابطہ بورڈ کے سیکرٹری راجہ احسن حیدر ،راجہ افتخار اکرم ،قضافی الطاف کی صحافیوں سے گفتگو

اتوار جون 15:50

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) عجلت میں ایکٹ 74میں ترامیم ڈرمائی وفاقی حکومت کی مدت ختم ہونے سے آدھ گھنٹہ قبل مسودہ تیار کرکے عوام کو بیوقوف بنایا گیا آزادکشمیر میں دھاندلی کے زریعے نوازلیگ کو اقتدا ر میں لانے کا مقصد آزادکشمیر کی حیثیت کو ختم کرنا ہے ‘صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کی ہر کال پر لبیک کرنے کے لیے تیار ہیں آزادکشمیر بچائو تحریک میں بھرپور طریقے سے چلائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار مرکزی رابطہ بورڈ کے سیکرٹری راجہ احسن حیدر ،راجہ افتخار اکرم ،قضافی الطاف ،احسن عباسی،نعمان چوہدری ودیگر نے مشترکہ بیان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم بنانے کا نعرہ دیکر پہلے سے حاصل شدہ اختیار بھی ختم کر دیئے گئے کشمیر کونسل کے آئینی کردار کا خاتمہ سنگین نتائج کا حامل ہے ،،نوازشریف روز اول سے تقسیم کشمیر کے منصوبے پر گامزن ہیں آزادکشمیر میںراتوں رات دبائو ڈال کر غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر کی جانے والی ترامیم اسی ایجنڈے کی تکمیل ہے ،کشمیر کونسل کے مالی اور انتظامی اختیارات کا خاتمہ 1975اور 1979ء کی ترامیم کی واپسی اور کنسالیڈفنڈ ،کی آزادکشمیر منتقلی قابل تعریف اور قابل تحسین کام ہے البتہ کشمیر کونسل کی آئینی حیثیت ختم کرنا سنگین قومی جرم کا ارتکاب ہے ،کشمیر کونسل کا آئینی وجود اسلام آباد اور مظفرآباد کے درمیان تعلقات کار کیلئے ایک باوقار پل کی حیثیت رکھتا ہے آئینی اداروں کا خاتمہ بدنظمی ،ہنگامہ آرائی ،لاقانونیت پیدا کرتا ہے ،کشمیر کونسل کے آئینی حیثیت کے خاتمے سے آزادکشمیر کو پچاس سال پچھلے دھکیل دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

نواز لیگ حکومت نے اپنی آئینی مدت ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے اور انتخابی شیڈول آنے کے بعد چوری اور ڈاکے کی طرح نبٹانے کی کوشش کی ،انہوں نے مزید کہا کہ متفقہ ترامیم مسودہ کو نظرانداز کرنا قومی بدیانتی ہے پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں نہ لینا بذات خودسازش کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیرکونسل کی مالی اور انتظامی اختیار ات کا خاتمہ تمام جماعتوں کا مشترکہ اور متفقہ مطالبہ رہا ہے اس حوالہ سے کسی سطح پر کوئی اختلافات نہیں پایا جاتا ،پیپلزپارٹی کے دور میں بننے والے مسودے پر تمام جماعتوں کا اس پر اتفاق ہوچکا تھا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ آئینی ترامیم کی آڑ میں آزادکشمیر کو صوبہ بنانے کی سازش کی جارہی ہے جس ہم کبھی کامیاب نہیںہونے دیں گے ۔مسلم کانفرنس تقسیم کشمیر کی سازشوں کا ہر سطح پر مقابلہ کریگی گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کو صوبہ بنانا کسی طرح بھی مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے مفاد میں نہیں ،ریاست جموںوکشمیر کے کسی بھی حصہ کی تقسیم پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی ،مسلم کانفرنس آئینی اور قانونی محاذ پر آخر وقت تک سردار عتیق احمد خان کی قیادت میں جموںوکشمیر کی عوام کے حق میں مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ریاست جموںوکشمیر ناقابل وحدت تقسیم ہے جس کے کسی بھی حصے کی تقسیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔