مقبوضہ کشمیر ‘ رمضان المبارک کے دوران بھی بھارتی ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ جاری

تازہ کارروائیوں کے دورا ن مزید 6نوجوان شہید‘کرن سیکٹر پر سر چ آپریشن کے نام پر نوجوانوں کو قتل کیا گیا

اتوار جون 16:10

کپواڑہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) بھارتی فورسز کی مقبوضہ کشمیر میں رمضان المبارک کے دوران بھی ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ جاری ،،بھارتی فوجیوں نے ضلع کپواڑہ میں 6 نوجوان کشمیریوں کو شہید کردیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز ضلع کپواڑہ کے علاقے کرن سیکٹر میں سرچ آپریشن کے نام پر نوجوانوں کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔

واضح رہے کہ بھارتی فورسز کی جانب سے نوجوانوں کی شہادت کا معاملہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔خیال رہے کہ بھارتی حکومت نے 16 مئی کو رمضان میں جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا اور ہندوستان ٹائمز کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک چار مرتبہ مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کی جانب سے داخل ہونے کی کوشش کی جا چکی ہے۔

(جاری ہے)

۔واضح رہے 6 جون کو بھارتی فوج نے کے مظالم سے مزید 3 کشمیری نوجوان جاں بحق ہوگئے تھے اور کلگام اور پلواما کے رہائشی مدثر احمد اور شیراز احمد کو بھارتی فوج نے 26 مئی کو کپواڑہ کے علاقے تنگ دھار میں جعلی انکانٹر میں شہید کردیا تھا اور انہیں غیر ملکی دہشت گرد بتا کر خفیہ طور پر بدوان اور تنگ دھار کے علاقوں میں ان کی تدفین کردی تھی۔خیال رہے کہ 1989 سے متعدد مسلح گروپ بھارتی فوج اور ہمالیہ کے علاقوں میں تعینات پولیس سے لڑتے آئے ہیں اور وہ پاکستان سے انضمام یا کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں۔

اس لڑائی کے دوران اب تک ہزاروں لوگ مارے جاچکے ہیں، جس میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔کشمیر میں جاری اس تشدد میں گزشتہ دہائی میں تیزی سے کمی آئی تھی لیکن گزشتہ سال بھارتی فوج کے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن آل آٹ کے نتیجے میں 350 اموات ہوئیں اور وادی میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔