فضول گوئی بند کر دیںاورحقیقی تعاون کریں،روسی صدرکا جی سیون کوکرارا جواب

جی سیون مجموعے سے نکلنے کا فیصلہ نہیں کیاتاہم گروپ کے رکن ممالک کا ماسکو میں اجلاس میرے لیے باعث مسرت ہو گا،گفتگو

اتوار جون 17:20

ْکیبک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) روسی صدر ولادیمر پوتین نے جی سیون گروپ کی جانب سے تنقید کو بکواس قرار دیتے ہوئے گروپ سے حقیقی تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اتوار کے روز اپنے چین کے دورے کے دوران روسی صدر نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس خود ساختہ بکواس کو روک دینا چاہیے اور حقیقی تعاون پر مبنی امور کی جانب توجہ دی جانی چاہیے۔

پوتین کا یہ بیان کینیڈا میں جی سیون کے سربراہ اجلاس کے اختتام پر جاری بیان کے حوالے سے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں سامنے آیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں امریکا، کینیڈا،، جاپان، جرمنی،، فرانس،، برطانیہ اور اطالیہ نے شرکت کی۔روسی صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے ملک نے جی سیون مجموعے سے نکلنے کا فیصلہ نہیں کیا اور گروپ کے رکن ممالک کا ماسکو میں اجلاس ان کے لیے باعث مسرت ہو گا۔پوتین نے یہ بات امریکی صدر کے اٴْس بیان کے جواب میں کہی جس میں ٹرمپ نے جی سیون مجموعے میں روس کی واپسی کی تجویز پیش کی تھی۔ روسی صدر کے مطابق وہ جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ کے خطرات کے حوالے سے ٹرمپ کے جائزے سے اتفاق رائے کرتے ہیں۔ پوتین نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ وہ ٹرمپ سے آمنے سامنے ملاقات کریں۔