مئی 2018؛ برآمدات 32 فیصد کے اضافے سے 2.14 ارب ڈالر ہوگئیں

بلندآئل پرائسز اورزیادہ فیول ومشینری خریدنے کے باعث گزشتہ ماہ پاکستانی درآمدات 15اور 11 ماہ میں14فیصدبڑھیں،ذرائع وزارت تجارت

اتوار جون 17:43

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) پاکستان کی ماہانہ 2ارب ڈالر سے زائد ایکسپورٹ کا تسلسل تیسرے ماہ مئی 2018 میں بھی قائم رہا اور گزشتہ ماہ اشیا کی پاکستانی برآمدات میں 32 فیصد کا سال بہ سال اضافہ ہواہے۔وفاقی وزارت تجارت کے ذرائع نے بتایا کہ مئی 2018 میں پاکستان سے ہونے والی برآمدات کی مجموعی مالیت 2 ارب 14 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہی، مقامی کرنسی میں ماہانہ برآمدات 247.5 ارب روپے رہیں جبکہ مئی 2017 میں ایکسپورٹ169.7 ارب روپے رہی تھی، اس طرح مئی 2018 میں ایکسپورٹ سے 80 ارب روپے کا اضافی زرمبادلہ حاصل ہوا، اس طرح روپے میں ایکسپورٹ میں 46 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا تاہم یہ ڈالر میں 32فیصد رہا جو کسی بھی مہینے میں بلندترین اضافہ ہے، اس طرح ڈالر میں ایکسپورٹ 1ارب 62کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2ارب14 کروڑ 40لاکھ ڈالر ہوگئی۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق مئی میں ایکسپورٹ نمایاں بڑھنے کی وجہ سے رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں برآمدات کا اضافہ 14فیصد سے بڑھ کر جولائی تامئی میں 15 فیصد ہوگیا، اس طرح گزشتہ 11 ماہ کے اندر 21ارب 32 کروڑ 60لاکھ ڈالر کی اشیا برآمد کی گئیں جو مالی سال 2016-17 کی ایکسپورٹ سے تقریبا 1ارب ڈالر زیادہ ہے، اس طرح امکان ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام پر پاکستانی ایکسپورٹ 23.4 ارب ڈالر پر پہنچ جائے گی یعنی مالی سال 2017-18 میں ایکسپورٹ سے 3ارب ڈالر کا اضافی زرمبادلہ ملے گا۔

ذرائع کے مطابق مئی میں درآمدات میں 15 فیصد کا اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ تیل کی بلند قیمتیں اور انرجی ڈیفیسٹ پر قابو پانے کے لیے فیول اور مشینری کی درآمدات میں اضافہ ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں مال سال کے ابتدائی11ماہ کے اندر درآمدات میں 14 فیصد کااضافہ ہوا۔