چین کے صدر شی جن پھنگ نام لیے بغیر امریکہ پر برس پڑے

خود غرض اور محدود تجارتی پالیسیاں مسترد اور ملٹی لیٹرل تجارتی نظام کی حمایت کرتے ہیں آزاد عالمی معیشت اور عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کے اقدام کو برقرا ر رکھا جائے ہمیں سرد جنگوں اور گروہوں کی لڑائی کی سوچ سے باہر نکلنا ہے ، صدر شی کا شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس سے خطاب

اتوار جون 18:10

چھنگ تائو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) امریکہ سے تجارتی تنازعے کے بعد چین کے صدر شی چنگ پینگ نے 'خود غرض اور محدود' تجارتی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے پابندیوں سے آزاد عالمی معیشت بنانے پر زور دیا ہے۔

(جاری ہے)

چین کے ساحلی شہر چینگ داؤ میں علاقائی سکیورٹی سے متعلق شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران چین کے صدر نے امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی تجارتی پابندیوں کا براہ راست ذکر نہیں کیا لیکن انھوں نے امریکی اقدام پر کڑی تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم خود غرض، محدود اور بند پالیسوں کو مسترد کرتے ہیں۔ عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کو برقرار رکھا جائے اور ملٹی لیٹرل تجارتی نظام کی حمایت کرتے ہوئے عالمی معیشت کو ایسا بنایا جائے جہاں سب کو آزادی ہو۔ایس سی او اجلاس سے خطاب میں چین کے صدر نے کہا کہ ہمیں سرد جنگوں اور گروہوں کی لڑائی کی سوچ سے باہر نکلنا ہے اور ہم دوسروں کی قیمت پر اپنی سکیورٹی کے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :