سابقہ سندھ حکومت کا مٹھڑاؤ کینال کی شاخوں کی پختگی کے منصوبوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا بھانڈہ پھوٹ گیا

متعدد شاخوں کی پختگی کے منصوبے مکمل ہونے اور پانی چھوڑنے کے ساتھ ہی سی سی بلاکس میں جگہ جگہ دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں

اتوار جون 18:20

نوکوٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) سابقہ سندھ حکومت کا مٹھڑاؤ کینال کی شاخوں کی پختگی کے منصوبوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا بھانڈہ پھوٹ گیا۔

(جاری ہے)

متعدد شاخوں کی پختگی کے منصوبے مکمل ہونے اور پانی چھوڑنے کے ساتھ ہی سی سی بلاکس میں جگہ جگہ دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں ٹھیکیدار غائب محکمہ آبپاشی اپنی بے قاعدگی چھپانے کے لئے پختہ شاخ میں پڑنے والی دراڑوں کو بھرنا شروع کردیا قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا ناقابل نقصان تفصیلات کے مطابق سابق حکومت سندھ نے مختلف کینالوں سے نکلنے والی کچی شاخوں اور نہروں میں پانی کے ضائع ہونے سے بچانے اور آخری سرے تک پانی کی رسائی کے لئے تمام شاخوں اور نہروں کو پختہ تعمیر کے اربوں روپے کے منصوبے جاری کئے تھے اس سلسلے میں مٹھڑاؤ کینال کی سیلور شیر اکال بھان بلالانی اکوٹہ فضل شاخوں اور تین نہروں کو پختہ تعمیر کے لئے ایک ارب روپے سے زائد کا بجٹ مختص کیا گیا تھا اور شاخوں کی پختگی کے منصوبوں میں اکال بھان بلالانی اور فضل شاخ کے منصوبے مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ اکوٹہ شاخ کا 32کروڑ روپے کا پختگی کا منصوبہ التواء کا شکا ر ہیں اور نوکوٹ سب ڈویژن کی فضل شاخ کے پختگی کے منصوبے میں 9 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے اہم شاخ کے پختگی کے منصوبے کو مکمل ہوئے ایک ماہ کا عرصہ ہی گزراہے اور 25مئی کو فضل شاخ میں سات روزہ وارہ بندی شیڈول کے تحت پانی چھوڑنے کے بعد ساتویں روز پانی ختم ہونے کے بعدسی سی بلاکس میں دراڑیں پڑنے کا انکشاف ہوا اور آٹھ سے دس آرڈی تقریباًآٹھ ہزارفٹ سی سی بلاکس میں لمبی لمبی دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ٹھیکیدار نے محکمہ آبپاشی کی مبینہ ملی بھگت سے ابتدا کی پانچ سے چھ آرڈی میں منظور شدہ میٹریل کے بعد تقریباً 15آرڈی میں انتہائی ناقص اور غیر معیاری میٹریل استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے شاخ کے سی سی بلاکس ٹوٹنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ علاقے کے آبادگاروں کو شاخ میں دراڑیں پڑنے کی اطلاع ملی تو محکمہ آبپاشی نوکوٹ کے افسران نے سابقہ ایس ڈی او اور ٹھیکیدار کی بے قاعدگی چھپانے کے لئے شاخ میں پڑنے والی میں سیمنٹ سے دراڑوں کو بھردیا ہے لیکن آبادگار کا کہنا ہے کہ دوبارہ شاخ میں پانی کی آمد کے بعدسی سی بلاکس میں مذید دراڑیں پڑجائے گی یہ بھی بتایا ہے کہ شاخ کی پختگی کے منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے ہم نے تیار فضلوں کا ایک وارہ بھی ملتوی تھا کہ شاخ پختہ ہوجائے لیکن ٹھیکیدار اور محکمہ آبپاشی نے گھپلا کرکے کروڑوں روپے ہڑپ کرلئے اور جس سے قومی خزانے کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے انہوں نے نگراں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ سے اپیل کی ہے کہ فضل شاخ میں پختگی کے منصوبے میں ہونے والے گھپلے کا نوٹس لے کر ملوث ٹھیکیدار اور افسران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔