مستقبل میں پانی کے بحران سے نمٹنے کیلئے ملک میں ہنگامی بنیادوں پر ڈیمز بنائیں جائیں، آسیہ اسحاق

بھارت کی جانب سے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے، رکن نیشنل کونسل

اتوار جون 20:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) پاک سر زمین پارٹی کی نیشنل کونسل کی رکن آسیہ اسحاق نیآبی قلت کے شکار ملکوں میں پاکستان کا شمار تیسرے نمبر پر آنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں پانی کے بحران سے نمٹنے کیلئے ملک میں ہنگامی بنیادوں پر ڈیآبی قلت کے شکار ملکوں میں پاکستان کا شمار تیسرے نمبر پر ہیمز بنائیں جائیں اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آبی قلت کے شکار ملکوں میں پاکستان کا شمار تیسرے نمبر پر ہے اور اس کی بنیادی وجہ پانی کے ذخائر کی کمی اور ان کا نامناسب استعمال ہے اگر یہ صورتحال رہی تو مستقبل میں پانی شدید اختیار کر جائے گاانہوں نے کہاکہ کتنے افسوس کی بات ہے سپریم کورٹ تک پانی کی سنگینی پر پریشان ہے مگر جمہوری حکومت میں جمہوریت کے دعویدار پاکستان میں آبی قلت کی سنگینی کی کوئی پروا نہیں ہے جو کہ قابلِ مزمت ہے انہوں نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب کے پانی ڈیموں میں جمع ہونے کی بجائے سمندر کی نظر ہو ریا ہے آگر ملک میں نئے ڈیمز نہں بنائی گئی تو آنے والی نسلوں کوپانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

(جاری ہے)

انہوں کہا کہ بھارت کی جانب سے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہیانہوں نے کہا کہ پانی کی قلت سے نمٹنے کے لئے ڈیموں کی تعمیر انتہائی اہمیت کی حامل ہے جس طرح پاکستان کی آبادی 21 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اور آبادی میں تیزی سے اضافہ کے پیشے نظر ملک بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہر 10 سال بعد مُلک میں ایک بڑا ڈیم تعمیر کیا جائے اور ساتھ ہی جہاں تک ممکن ہو چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم بھی تعمیر کئے جائیں انہوں نے کہا کہ پی ایس پی مطالبہ کرتی ہے ملک میں مہمند اور دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیرات کا کام فی الفور مکمل کیا جبھی مُلک کو شدید آبی بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔