یمن : حوثیوں کی بغاوت کے بعد سے 27 صحافی ہلاک

اتوار جون 21:10

یمین (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) یمن میں صحافیوں کی تنظیمنے انکشاف کیا ہے کہ 2014 کے اواخر میں حوثی ملیشیا کی جانب سے آئینی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے اب تک 27 صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہاریمنی صحافت کے دن کے موقع پر جاری کردہ بیان میں کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ ملک میں صحافت کو انتہائی ناسازگار اور دشوار حالات کا سامنا ہے اور اسے ایک منظم جنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں ذرائع ابلاغ اور صحافیوں کے خلاف اس معاندانہ صورت حال پر بھی روشنی ڈالی گئی جو گزشتہ 25 برسوں سے زیادہ عرصے کے دوران یمنی صحافت کو کبھی درپیش نہیں رہی۔انجمن نے حوثی ملیشیا کے ہاتھوں اغوا شدہ 12 صحافیوں اور القاعدہ کے پاس مغوی ایک صحافی کی رہائی کا مطالبہ دہرایا۔

(جاری ہے)

انجمن کے مطابق ان افراد کو بدترین وحشیانہ تشدد کا سامنا رہا ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل حوثی ملیشیا کی جیل میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے کے بعد صحافی انور الرکن دم توڑ گیا تھا۔ صحافیوں کی انجمن نے انور کے قتل کا ذمے دار حوثی ملیشیا کو ٹھہرایا ہے۔مذکورہ انجمن نے صحافیوں کے بین الاقوامی اور عرب اتحاد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمنی صحافیوں کے ساتھ یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے خلاف جاری جرائم کی مذمت کریں۔

متعلقہ عنوان :