شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ کانفرنس میں رکن ممالک میں باہمی تعاون، پائیدار دوستانہ تعلقات، سلامتی، معاشی، تجارتی تعاون بڑھانے کے سمجھوتوں پر دستخط

پاکستان میں جمہوری اقدار اور ادارے مستحکم ہوئے ہیں ،ْ پاکستان امن و استحکام کیلئے افغانستان کیساتھ ہمیشہ کی طرح تعاون جاری رکھے گا ،ْصدر ممنون حسین چین پاکستان اقتصادی راہداری سے پاکستان کا اقتصادی منظرنامہ تبدیل ہورہا ہے اور پاکستان نجی سرمایہ کاری کے لئے بہترین مقام بن گیا ہے ،ْخطاب

اتوار جون 21:30

شنگھائی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ کانفرنس میں رکن ملکوں میں باہمی تعاون، پائیدار دوستانہ تعلقات، سلامتی، معاشی، تجارتی تعاون بڑھانے کے سمجھوتوں پر دستخط ہوگئے۔چین کے شہر چینگ ڈاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم کا دو روزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب میں صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان امن و استحکام کیلئے افغانستان کیساتھ ہمیشہ کی طرح تعاون جاری رکھے گا۔

انہوں نے ایس سی او کے تحت افغان رابطہ گروپ کے قیام کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دو طرفہ بنیادوں پرجامع لائحہ عمل کے تحت کام کررہے ہیں۔صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں قیام امن کیلئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیاں دی ہیں، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر کوششوں کی بدولت پاکستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، پاکستان میں جمہوری اقدار اور جمہوری ادارے مستحکم ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

ممنون حسین نے کہا کہ افغانستان میں امن واستحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے اور پاکستان اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جنگ بندی علاقائی امن کیلئے خوش آئند ہے۔ممنون حسین نے کہاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے پاکستان کا اقتصادی منظرنامہ تبدیل ہورہا ہے اور پاکستان نجی سرمایہ کاری کے لئے بہترین مقام بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں صنعتی زون قائم کئے جارہے ہیں جن میں سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات دی جائیں گی۔صدر نے خطے کی ترقی کے لئے پانچ نکاتی ترجیحات پیش کیں جن میں سرمایہ کاری، تجارت، ای کامرس، ریلوے اور سیاحت کا فروغ شامل ہیں۔ممنون حسین نے شنگھائی تعاون تنظیم پر زور دیا کہ وہ غربت کے خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں کرے۔

صدر مملکت نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کو محض عارضی جیو پولیٹیکل زاویے سے نہیں دیکھنا چاہئے، تمام ممالک کو علاقائی ترقی اور رابطوں کے تمام منصوبوں بشمول بیلٹ اینڈ روڈ اقدام اور اس کے مشعل بردار منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری کی کھلے دل سے حمایت کرنی چاہئے۔ مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیادی اقدار کے تناظر میں تنظیم کے رکن ممالک کو غربت میں کمی ، کمزور معیشتوں کے ساتھ تعاون اور دہشتگردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں، ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک اور فنڈ اس مقصد کے حصول میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ ایس سی او بزنس کونسل مختلف شعبوں میں تجارتی رابطوں میں معاونت فراہم کرے گی۔ اسی طرح ہمیں ایک دوسرے کے تاجروں کیلئے ایس سی او ویزہ سہولیات متعارف کرانے کے امکانات کا جائزہ لینا چاہئے ، شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو نوجوانوں کو مختلف فنون کی تربیت اور لوگوں بالخصوص نوجوانوں کے درمیان بامعنی رابطوں کیلئے خصوصی پروگراموں کا آغاز کرنا چاہئے۔

پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور اب تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کیا گیا ہے، عالمی اقتصادی رجحانات کے بر خلاف پاکستانی معیشت نے اچھی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ گزشتہ ایک عشرے میں توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہوا جبکہ جی ڈی پی کی شرح بھی بلند ترین رہی۔

بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے بھی اس مثبت کارکردگی کا اعتراف کیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسی طرح پاکستان کی زراعت اور خدمات کے شعبوں نے بھی تیز تر بڑھوتری دکھائی ہے۔ نجی سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں پاکستان خطے میں پہلا اور عالمی سطح پر پانچواں بڑا ملک ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی انسداد دہشت گردی کا علاقائی ڈھانچہ دہشتگردی اور انتہاپسندی کے حوالے سے ہماری تشویش کا اظہار ہے۔

پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو دہشتگردی کے انسداد کے لئے اپنے تجربات میں شریک کر سکتا ہے۔ منشیات کی سمگلنگ کے ایشو کا ذکرکرتے ہوئے صدر نے کہا کہ آج کے سربراہی اجلاس میں اس حوالے سے کیے جانے والے فیصلے ایک بڑی کامیابی ہے اور ان فیصلوں پر عملدرآمد کے نتیجے میں خطے میں غیرقانونی منشیات کی لعنت پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

صدر مملکت نے کثیر المقاصد سربراہی اجلاس کے انعقاد پر چین کے صدر شی جنگ پنگ، چینی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس تاریخی موقع پر پاکستان نے خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ علاقائی سلامتی اور خوشحالی کے لئے قائم تنظیموں میں شنگھائی تعاون تنظیم کو مثالی حیثیت حاصل ہے۔ بہت ہی مختصر وقت میں یہ تنظیم معیشت، تجارت، علاقائی سلامتی، رابطہ کاری اور پائیدار ترقی کے لئے بین الریاستی اور عوامی رابطوں کا موثر پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے۔

پاکستان نے اس تنظیم کی ذمہ داری کی یادداشت کے تمام تقاضے بروقت پورے کیے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا سٹریٹیجیک محل وقوع، بحر ہند تک اس کی رسائی اور ایک بڑی صارف مارکیٹ ہونے کی وجہ سے یہاں مواقع بھی بہت زیادہ بڑے ہیں ۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی وجہ سے ہماری کامیابیوںمیں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس منصوبے کی وجہ سے تاپی اور کاسا 1000جیسے علاقائی تعاون کے منصوبوں میں ہماری شرکت بڑی ہے۔

ان منصوبوںکی تکمیل سے پاکستان کی معیشت مزید ترقی پائے گی۔ وژن 2025ء پر عملدرآمد ہو رہا ہے، وژن 2025ء میں معیشت کے تمام شعبوں میں ترقی کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ پاکستان کی حکومت صنعتی پیداوار اور اقتصادی پائیداریت کو یقینی بنانے کے لئے مختلف مقام پر 9صنعتی زون بنا رہی ہے۔ صدر نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں جمہوری ادارے اور اقدار مضبوط ہوئی ہیں۔

ملک میں انتخابی عمل جاری ہے، ہمیں امید ہے کہ اس عمل کی تکمیل پر سیاسی اور اقتصادی استحکام میں مزید اضافہ ہو گا جس کے پورے خطے پر اثرات مرتب ہونگے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں امید ہے اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی تمام اقوام عصر حاضر کے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے میں کندھے سے کندھے ملا کر کھڑی ہوںگی اور پاکستان علاقائی امن اور خوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے سربراہ اجلاس کی صدارت کی جس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان حکومت اور مملکت نے شرکت کی۔صدر ممنون حسین نے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی جبکہ قازقستان ، روس، تاجکستان اور ازبکستان کے صدر اور بھارت کے وزیراعظم نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔شنگھائی تعاون تنظیم کے چار مبصر ملکوں، افغانستان ، بیلا روس ، ایران اور منگولیا کے صدور نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدرشی جن پنگ نے بطور رکن پہلی بار شرکت پر پاکستان اور بھارت کے سربراہوں کا خیرمقدم کیا، انہوں نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی خودغرض اور تنگ نظر پالیسیوں کو مسترد کرتیہوئے ایک نئے باہمی تجارتی نظام اور کھلی معیشت کی تعمیر کااعلان کیا۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ پڑوسیوں کے ساتھ رابطے استوار کرنا اور سیکیورٹی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ اپنی پالیسیاں تھوپنے کی امریکی کوششیں سب ملکوں کیلئے خطرناک ہیں۔چینی صدر کی جانب سے رکن ملکوں کے سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا اور تقریب میں لیزر لائٹس سے میوزیکل پرفارمنس اور آتش بازی کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا۔صدر مملکت ممنون حسین اور روس کے صدرولادی میرپیوٹن نے چنگ ڈاو میں ملاقات کی۔

دونوں ممالک کے صدور کی ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر ہوئی جس میں دوطرفہ امور، عالمی اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں صدر مملکت اور روسی صدر نے باہمی تعلقات میں مزید اضافے پر اتفاق کیا۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، سلامتی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ملاقات میں دونوں صدور نے اتفاق کیا کہ پاکستان اورروس کے درمیان تجارت میں اضافے کے وسیع امکانات ہیں لہذا دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بڑھایا جائے گا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی صدر مملکت ممنون حسین نے چینی صدر شی چن پنگ اور ایرانی ہم منصب ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات کی تھی۔