صحافیوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف کیس کی سماعت

سپریم کورٹ نے تنخواہیں نہ دینے والے میڈیا مالکان کو آج طلب کر لیا

اتوار جون 21:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں گزشتہ روز صحافیوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی سپریم کورٹ نے تنخواہیں نہ دینے والے میڈیا مالکان کو آج طلب کر لیا چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی سپریم کورٹ نے میڈیا اداروں سے نکالے گئے صحافیوں کی برطرفیاں معطل کر دیں عدالتی حکم کے باوجود تنخواہیں نہ دینے پر سپریم کورٹ نے شدید اظہار برہمی کیا چیف جسٹس نے کہا کہ تنخواہیں نہ دینے والے تمام میڈیا مالکان ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت کریںاس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کیپیٹل ٹی وی سب سے بڑا ڈیفالٹر ہے چیف جسٹس نے کہا کہ کیپٹل ٹی وی کے مالک احمد ریاض شیخ نے 5 کروڑ جہاں سے لئے مجھے معلوم ہے چیف جسٹس نے کہا کہ احمد ریاض شیخ ہر صورت میڈیا ورکر زکو تنخواہیں ادا کرے چیف جسٹس نے بول ٹی وی، جیو نیوز، سیون نیوز،بزنس پلس نیوز . وقت نیوز، ابتک ٹی وی، اے آر وائے، رائل ٹی وی اور تنخواہیں ادا نہ کرنے والے دیگر مالکان کو پیش ہونے کا حکم جاری کر دیا جبکہ عدالت نے روزنامہ جنگ، روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ نئی بات،روزنامہ ڈیلی ٹایمز سمیت دیگر اخبارات کے مالکان کو بھی طلب کر لیا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ کل اس وقت کیس کی سماعت کروں گا جب عدالت میں صرف صحافی اور مالکان ہونگے اس موقع پر صدر الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن آصف بٹ بھی عدالت میں پیش ہوئے صدر ایمراآصف بٹ نے عدالت کو بتایا کہ میڈیا مالکان تنخواہیں مانگنے پر صحافیوں کو نوکریوں سے نکال رہے ہیں اور ان کے خلاف مقدمات درج کروانے کی دھمکیاںدی جا رہی ہیں صدر ایمر آصف بٹ نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب حکومت کو کہہ کر صحافی یونینز کے دفاتر چھینے جا رہے ہیںآصف بٹ نے عدالت کو مزید کہا کہ مبشر لقمان جیسے بڑے اینکروں کی تنخواہیں اتنی ہیں کہ انہیں کوئی پرواہ نہیںاس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ کسی صحافی کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گاسپریم کورٹ نے سیکرٹری اطلاعات کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کر لیاچیف جسٹس نے کہا کہ جس میڈیا مالک نے تنخواہ اور واجبات ادا نہ کئے، اس کیخلاف کارروائی ہوگی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ چاہے قرضے لیں، بھیک مانگیں، گاڑیاں،، مکان گروی رکھوائیں لیکن صحافیوں کوہر صورت تنخواہیں ادا کریں چیف جسٹس نے کہا کہ صحافیوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر بڑے بڑے اینکرز چینلز کا بائیکاٹ کریں