کم جونگ اٴْن سنگاپور پہنچ گئے،صدر ٹرمپ سے ملاقات کل ہوگی

اتوار جون 21:40

سنگاپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ سے ملاقات کیلئے سنگاپور پہنچ گئے ہیں ۔ ان دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ تاریخی ملاقات سینٹوسا جزیرے پر منگل کو ہو گی۔ یہ پہلا موقع ہے جب شمالی کوریا کے رہنما کسی برسرایِ اقتدار امریکی صدر سے مل رہے ہیں۔ سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالاکرشن نے ایک تصویر ٹویٹ کی ہے جس میں وہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا سنگاپور کے ہوائی اڈے پر استقبال کر رہے ہیں۔

اس سے قبل سنگاپور کے اخبار سٹریٹس ٹائمز کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ سے اتوار کو تین جہازوں نے پرواز کی۔ ایک کارگو جہاز تھا جو علی الصبح اڑا، اس کے بعد ایک چینی جہاز اور پھر کم جونگ ان کا ذاتی جہاز اڑا۔

(جاری ہے)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملاقات کو 'امن کا مشن' قرار دیا اور کہا کہ دونوں سربراہان کے لیے 'صحیح معنوں میں یہ پہلی بار ہے۔

''کینیڈا میں جی سیون سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد امریکی صدر بھی وہاں سے روانہ ہو ئے ۔روانگی سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ شمالی کوریا کے سربراہ 'اپنے لوگوں، اپنے خاندان اور اپنے لیے کچھ مثبت کر سکتے ہیں۔' امریکہ کو امید ہے کہ اس ملاقات سے ایک ایسے مرحلے کا اغاز ہوگا جس میں کم جونگ ان آخرکار اپنے جوہری ہتھیاروں پر کام بند کر دیں گے۔

صدر ٹرمپ کے دور صدارت کا پہلا سال کم جونگ ان کے ساتھ سخت کلامی میں گزرا کیونکہ شمالی کوریا نے بین الاقوامی انتباہ کے باوجود کئی بیلسٹک میزائل تجربے کیے۔ امریکی صدر نے عہد کیا کہ اگر پیانگ یانگ واشنگٹن کو یونہی دھمکاتا رہا تو وہ اس کے خلاف 'جہنم کا دروازہ' کھول دیں گے۔ اس کے جواب میں شمالی کوریا کے رہنما کم نے انھیں 'پاگل' اور 'کم عقل' کہا۔

وائٹ ہاؤس کے 'شدید دباؤ' کی مہم کے باوجود شمالی کوریا ڈٹا رہا اور اس نے ستمبر سنہ 2017 میں چھٹا جوہری تجربہ کیا۔ اس کے فوراً بعد کم جونگ ان نے اعلان کیا کہ ان کے ملک نے جوہری اسلحے کی اہلیت والے ملک ہونے کا اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے اور یہ کہ اس کے میزائل امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔لیکن سنہ 2018 کے اوائل میں جنوبی کوریا میں منعقدہ سرمائی اولمپک کے موقعے پر شمالی کوریا نے جنوبی کوریا سے اپنے رشتے پر جمی برف کو پگھلانے کی کوشش کی۔

مارچ میں صدر ٹرمپ نے کم جونگ ان کی جانب سے بالمشافہ ملاقات کے دعوت نامے کو قبول کرکے لوگوں کو حیران کر دیا۔ یہ دعوت نامہ سیول کے ذریعے ان تک بھیجا گیا تھا۔ اس کے بعد سے سربراہی ملاقات کی راہ ناہموار اور دشوار گزار رہی۔ ایک ایسا موقع آ یا جب صدر ٹرمپ نے اسے مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ لیکن سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اب دونوں رہنما مل بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

گذشتہ اٹھارہ مہینے کے دوران دونوں رہنماؤں کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ الفاظ کی لڑائی اور ایک دوسرے کو جنگ کی دھمکیاں دینے کے بعد دونوں کی آمنے سامنے ملاقات ہو رہی ہے۔ تاہم گذشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ان کی شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ سے اگلے ہفتے سنگا پور میں طے شدہ ملاقات اچھی رہی تو وہ انھیں امریکہ آنے کی دعوت دے سکتے ہیں۔شمالی کوریا اور امریکہ کے رہنما دو طرفہ ملاقات سے قبل سنگاپور کے وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔