کثیرالجہتی تجارتی نظام کی حمایت کرتے ہیں: صدر شی جن پنگ

اتوار جون 21:40

بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان اور بھارت کو چین اور روس کی قیادت میں قائم سیاسی و اقتصادی بلاک شنگھائی تعاون تنظیم کے چین کے شمالی ساحلی شہر چنگ ڈاؤ میں شروع ہونے والے اجلاس میں خوش آمدید کہا ہے۔ شی نے اتوار کو پاکستان کے صدر ممنون حسین اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا اجلاس میں خیر مقدم کیا اور ان کی موجودگی کو " تاریخی اہمیت" کا حامل قرار دیا۔

شی نے کہا کہ "(تنظیم) میں جتنے زیادہ رکن (ملک) ہوں گے یہ اتنا ہی تنظیم کی مضبوطی کے لیے اچھا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک اور بین الاقوامی برادری کی (اس کی طرف) توجہ اور توقعات ہوں گی۔" پاکستان اور بھارت گزشتہ سال اس تنظیم کے رکن بنے جس میں چین اور روس کے علاوہ قزاقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان بھی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

افغانستان،، بیلاروس ، ایران اور منگولیا بطور مبصر ملک تنظیم کے اجلاس میں شرکت کرتے ہیں۔

تنظیم کا افتتاحی اجلاس 9 جون کو شروع ہوا جبکہ 10 جون تنطیم کی باضابطہ کارروائی کا دن ہے۔شی نے شنگھائی تعاون تنظیم کی اس تقریب کی"یگانگت" کو سراہا جو اس وقت شروع ہوئی جب کینیڈا میں ہونے والی جی سیون ملک کی سربراہی کانفرنس غیر منظم انداز میں ختم ہوئی۔اس اجتماع میں امریکہ کے اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ کئی معاملات پر اختلافات تھے۔

ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے لیے اپنی تائید کو واپس لے لیا اور انہوں نے اس جلاس کے میزبان کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈیو پر سخت تنقید کی۔دوسری طر ف شی نے ایس سی او کو بتایا کہ "یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ علاقائی سلامتی اور استحکام اور ترقی و خوشحالی کو فروغ دیں۔"شی نے چنگ ڈاؤ میں اجلاس سے خطاب میں امریکہ کا نام لیے بغیر کہا کہ "ہم خود غرضانہ، کوتاہ اور تنگ نظر پالیسوں کو مسترد کرتے ہیں۔

(ہم) عالمی تجارت کی تنظیم کے قواعد و ضوابط کا احترام کرتے ہیں، ایک کثیر الجہتی تجارتی نظام کی حمایت کرتے ہیں اور کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کی حمایت کرتے ہیں۔" ْ حالیہ سالوں میں ایس سی او کے اقتصادی محور میں اضافہ ہوا ہے جس کا اظہار شی کی ایک پٹی ایک شاہراہ کے منصوبے میں بھی ہوتا ہے جو کہ کھربوں ڈالر کے بنیادی ڈھانچے کا پروگرام ہے اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی یہ اہمیت کا حامل ہے۔

روس اور چین کے درمیان اس وقت سے تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے جب سے امریکہ نے اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں انہیں اپنے سب سا بڑا حریف قرار دیا۔شی نے کہا کہ "ہمیں (مختلف) بلاک کے درمیان سرد جنگ کی سوچ اور محاذ آرائی کو مسترد کرنا چاہیے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ملکوں کو اس بات کی مخالفت کرنی چاہیے جس میں دوسرے ملکوں کی سیکورٹی کو نقصان پہنچا کر اپنے لیے قطعی سیکورٹی کی جستجو کی جائے۔"