27رمضان المبارک کوپاکستان معرض وجود میںآیالیکن ہم نے آج تک اللہ کے عطاکردہ اس تحفے کی قدر نہیںکی،سید عطاء المہیمن بخاری

اتوار جون 21:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) مجلس احراراسلام پاکستان کے امیرمرکزیہ سید عطاء المہیمن بخاری نے کہاہے کہ 27رمضان المبارک کوپاکستان معرض وجود میںآیالیکن ہم نے آج تک اللہ کے عطاکردہ اس تحفے کی قدر نہیںکی ۔مرکزی دفترنیومسلم ٹائون لاہور سے جاری اپنے بیان میںانہوںنے کہاکہ پاکستان کے قیام کیلئے لاکھوںافراد کی قربانی دی گئی جوانسانی تاریخ میںایک ریکارڈہے ۔

انہوںنے کہاکہ 70برس گزرنے کے باوجودملک میں قرآنی قوانین کا نافذنہ ہوناایک المیہ ہے اب اگرتبدیلی کی باتیںکی جارہی ہیں توہمارے لیے یہی تبدیلی کافی ہوگی کہ ملک میںوہ نظام نافذ کردیاجائے جس کااس کوحاصل کرتے وقت وعدہ کیاگیاتھا۔انہوںنے کہاکہ اسلامی نظام کے نفاذ پرتمام مکاتب فکر نہ کوئی ابہام رکھتے ہیںبلکہ پوری قوم اس پرمتفق ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے نگران حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میںسرفہرست رکھے اورایسے اقدامات کئے جائیں جو1973ء کے متفقہ آئین کی عکاسی کرتے ہوں۔انہوںنے کہاکہ 27رمضان المبارک کوحاصل ہونے والے خطے کی مناسبت سے 27رمضان المبارک کوبھی یوم پاکستان قراردیاجائے تاکہ ملک کی اسلامی ونظریاتی شناخت نسل نوکے ذہن میںپختہ ہو۔

مجلس احراراسلام پاکستان کے جنرل سیکرٹری عبداللطیف خالد چیمہ نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ 27رمضان المبارک کو’’یوم پاکستان‘‘ کے طورپرمنائیںاورآئین کی اسلامی دفعات کے دفاع وتحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔انہوںنے کہاکہ چناب نگر(ربوہ)میںریاستی رٹ نام کی کوئی چیز نظرنہیںآتی ،امتناع قادیانیت ایکٹ پرعمل درآمدپوری قوم کامطالبہ ہے ،قادیانی اپنے کفر کواسلام کانام دے کرریاستی رٹ کوچیلنج کررہے ہیں،،نگران حکومت سے ہمارامطالبہ ہے کہ وہ قادیانیوںکونکیل ڈالیںاور ربوہ میںراستے بلاک کرکے جومشکلات پیداکی گئیںہیںان کاازالہ کیاجائے ،انہوںنے یہ مطالبہ بھی کیاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے کردار کومؤثر بنایاجائے ۔

علاوہ ازیںمبلغین احراروختم نبوت نے ملک بھرمیں’’پیغام ختم نبوت‘‘کاسلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھاہواہے جس کے ذریعے عوام الناس کوعقیدہ ختم نبوت کے دینی وقانونی پہلوئوںسے آگاہی دی جارہی ہے یہ سلسلہ رمضان المبارک کے آخر تک جاری رہے گا۔