قصور میںتین سال قبل6اکتوبر 2015ء کو اغواء ہونے والی جواں سالہ لڑکی بازیاب نہ کروائی جاسکی

،تبلیغی جماعت کا کارکن انصاف کیلئے خبریں آفس رائے ونڈ پہنچ گیا

اتوار جون 21:40

رائے ونڈ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) قصور کے علاقہ میںتین سال قبل6اکتوبر 2015ء کو اغواء ہونے والی جواں سالہ لڑکی بازیاب نہ کروائی جاسکی ،تبلیغی جماعت کا کارکن انصاف کیلئے خبریں آفس رائے ونڈ پہنچ گیا ،تفصیلات کے مطابق ضلع قصور کے تھانہ تھ شیخم کے علاقہ لاکھو پورہ کے رہائشی بزرگ زمیندار محمد رشید نے بتایا کہ علاقہ کے بااثر افراد عبدالرحمن عابد ،طاہر ،واجد ،عابد اور آصف نے اس کی 19سالہ بیٹی سعدیہ کو کسی طرح ورغلاء کر اغواء کرلیا ،جس کی رپورٹ اس نے مقامی تھانہ کو دی جنہوں نے ایک ملزم عبدالرحمن عابد کو ہماری نشاندہی پر گرفتار کیا جبکہ اس کا ایک اہم ساتھی طاہر موقع سے فرار ہوگیا ،متاثرہ شخص محمد رشید کے مطابق ملزم عبدالرحمن عابد کو اسی رات ہی علاقہ کی نااثر شخصیات شوکت اور اکرم وغیرہ نے چھڑوا لیا ،جس کے چند دنوں بعد ملزموں کے سرپرستوں نے ایک جعلی نکاح نامہ پنچائت کے ذریعے پیش کیا کہ لڑکی نے رضا مندی کیساتھ عبدالرحمن عابد سے شادی کرلی ہے ،محمد رشید نے کہا کہ جب اس نے اپنی بیٹی کو ملوانے کا کہا تو ملزموں نے اگلی پنچائت میں ایک اور نکاح نامہ دکھا دیا کہ لڑکی نے عبدالرحمن عابد کیساتھ نہیں بلکہ طاہر کیساتھ شادی کی ہے ،متاثرہ شخص محمد رشید نے بتایا کہ وہ تین سال سے مختلف جگہوں پر انصاف کیلئے دھکے کھا رہا ہے لیکن اس کو کسی ادارے اور افسر مجاذ نے انصاف فراہم نہیں کیا اور آج تک اس کی بیٹی سے نہیں ملایا گیا تاکہ وہ سچ جان سکے ،اس نے کہا کہ یہ گروہ جس کو مذکورہ بااثر شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے ،مقامی پولیس اور متعلقہ یونین کونسل سیکرٹریوں کے ساتھ ملی بھگت سے علاقہ کے بے آسرا لوگوں کی نوجوان لڑکیاں اغواء کرتا ہے ،پھر اغواء کی گئیں لڑکیوں میں سے کسی ایک لڑکی کو آزاد کرنے کے عوض اس کی مدد سے دوسری لڑکی اغواء کرلیتا ہے ،اور اس طرح ان کا نیٹ ورک کئی سالوں سے یہ دھندہ کررہا ہے ،ناجانے یہ لڑکیوں کو کہاں رکھتے ہیں اور ان سے کیا کام لیتے ہیں ،اس نے انکشاف کیا کہ جس لڑکی ثمرین کے ذریعے ملزموں نے اس کی بچی کو اغواء کیا تھا ،اس لڑکی نے چند دنوں بعد خود کشی کرلی تھی جو کہ اس کے والدین نے بدنامی کے خوف سے ملزموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کروائی ،کیونکہ باثر ملزمان کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کو تیار نہیں ،ملزمان کی پشت پناہی انتہائی بااثر لوگ کرتے ہیں ،جن میں کوئی کسی جج کا رشتہ دار ہے تو کوئی کسی اعلیٰ پولیس افسراور فوجیوں کے عزیز ہیں ،متاثرہ شخص نے خبریں کے چیف ایڈیٹر جناب ضیا ء شاہد صاحب سے اس سلسلے میں خصوصی دلچسپی لیکر چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے انصاف دلوانے کی اپیل کی ہے ،اس نے کہا کہ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی بیٹی سلامت بھی ہے کہ نہیں یا کہاں ہے ،اور اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے ،وہ روروکر دہائی دیتا رہا اور اپنی تصویر شائع نہ کرنے کی درخواست کی ۔