شہباز شریف نے جنوبی پنجاب کو صاف پانی کی فراہمی کے نام پر KSB کمپنی کو اربوں روپے دیدیئے

کمپنی کے فنانشل منیجمنٹ کے نام پر زویراعلیٰ نے نجی کمپنی کو 14 کروڑ 75 لاکھ غیر قانونی ادا کردیئے‘ جنوبی پنجاب میں 36 پلانٹ کی بجائے KSB نے 84 پلانٹس لگا کر خود ریٹس لگا کر قومی خزانہ سے اربوں لوٹ لئے سپریم کورٹ نے تحقیقات کرکے لوٹی ہوئی دولت واپس لینے بارے نیب کو ہدایت

اتوار جون 21:40

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے جنوبی پنجاب کی عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے منصوبہ میں من پسند تعمیراتی کمپنی (کے ایس بی) کو کروڑوں روپے غیر قانونی طورپر فراہم کئے تھے جن کو اب غیر قانونی اقدام قرار دیا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے مختلف اضلع اور تحصیلوں میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے 36 پلانٹس کی تنصیب ہونا تھی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے (کے ایس بی) تعمیراتی کمپنی کو 36 پلانٹس کی تنصیب کیلئے 95 کروڑ 52 لاکھ روپے ادا کئے جبکہ کمپنی نے جنوبی پنجاب میں 36 پلانٹس کی بجائے بورڈ آف ڈائریکٹر کی اجازت کے بغیر 80 پلانٹس لگئے اور وزیراعلیٰ پنجاب سے بھاری رقوم ہتھیالیں ۔ دستاویزات کے مطابق 36 پلانٹس پر 16 کروڑ 55 لاکھ لاگت ظاہر کی گئی 22 پلانٹ پر لاگت 7 کروڑ 32 لاکھ خرچ ہوئے 18 پلانٹس پر 79 لاکھ روپے وصول کئے تحقیقات میں ثابت ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ نے قواعد و ضوابط کے برعکس تعمیراتی کمپنی KSB کو فوائد دیئے جس کے نتیجہ میں انجینئرنگ کنسلٹنٹ کمپنی کو بھی اضافی رقوم جو کروڑوں مین بنتی تھیں ادا کی گئیں جبکہ پلانٹسکی تکنیکی صلاحیتوں میں ب ھی ردوبدل کی گئی ہے وزیراعلیٰ نے پلانٹس پر بجلی کنکشن کی لاگت تعمیراتی کمپنی کی بجائے قومی خزانہ سے ادا کی گئیں جبکہ منصوبہ کی کل لاگت 1 ارب 14 کروڑ کی تفصیلات بھی متعلقہ فورم مین زیر بحث نہیں لائی گئیں جبکہ تعمیراتی فرم KSB کو ریٹس دیتے وقت بھی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی ہے دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ جنوبی پنجاب میں صاف پانی منصوبہ کی تعکمیل کی ذمہ داری کے ایس بی کو دی گئی تھی جس کو 84 پلانٹس کی تنصیب کے نام پر کروڑوں روپے کا مالی فائدہ دیا گیا تھا جبکہ اسی کمپنی کو کروڑوں روپے کی ادائیگیاں وزیراعلیٰ شہباز شریف نے صاف پانی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بغیر کیں جو کہ بھاری کرپشن کے زمرے میں آتا ہے جبکہ کمپنی کو رات کی تاریکی میں 24 کروڑ روپے فوری طور پر ادا کئے گئے جبکہ کمپنی سے بجلی بلوں کی مد میں 23 لاکھ 22 ہزار روپے کی وصولی ہی نہیں کی۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ایڈوانس کے نام پر اس کمپنی کو 1 کروڑ 66 لاکھ روپے ریلیز کئے جو وصول ہی نہیں ہوئے اور نہ دیگر بلوں سے منہا کرائے گئے تھے دستاویزات کے مطابق وزیراعلیٰ نے کنسلٹنٹ فرم SKAFS سے 41 لاکھ جبکہ کنسلٹنٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے صاف پانی منصوبہ کی جگہ غلط تعین کرنے کے باوجود من پسند کمپنی ACF کو غیر قانونی طریقہ سے 2 کروڑ 49 لاکھ روپے فراہم کردیئے جو ان کا غیر قانونی اقدام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے انجینئرنگ کمپنی کو کنسلٹنٹ بھرتی کرنے کے علاوہ من پسند کمپی ارب سیکٹر پلاننگ اینڈ منیجمنٹ سروس یونٹ کوبھی فنانشل منیجمنٹ کا ٹھیکہ دے کر 14 کروڑ 75 لاکھ کی کرپشن کی جس کے ناقابل تردید ثبوت مل گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں پلانٹس تنصیب کرنے والی کمپنی کے ایس بی نے غیر قانونی طریقہ سے سامان کی خریداری کے نام پر 3 کروڑ 45 لاکھ کا ڈاکہ ڈالا اس میں وزیراعلیٰ شہباز شریف برابر کے شریک ملزم ہیں جنوبی پنجاب کی عوام کو صاف پانی تو میسر نہ ہوا لیکن صاف پانی کے نام پر اربوں روپے لوٹ لئے ہین جن کی واپسی کیلئے سپریم کورٹ نے نوٹس لے رکھا ہے۔