حیدرآباد، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کا اجلاس

محکمہ صحت سندھ میں کی کرپشن اور محکمے کے مختلف شعبے نجکاری کا نوٹس لیا جائے،چیف جسٹس سے اپیل

اتوار جون 21:40

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کا اجلاس صوبائی صدر ڈاکٹر سعید احمد میمن کی صدارت میں ہوا۔ جس میں چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی گئی کہ محکمہ صحت سندھ میں کی جانے والی کرپشن اور محکمے کے مختلف شعبے نجکاری کے حوالے کئے جانے کا نوٹس لیا جائے۔اجلاس میں پی ایم اے کے صوبائی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر پیر منظور علی، ڈاکٹر عابد قائم خانی، ڈاکٹر گلزار جمانی ، ڈاکٹر لالہ جعفر، ڈاکٹر عثمان ماکھو اور ڈاکٹر محمد خان شر نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں محکمہ صحت سندھ کی نجکاری کے مسئلے پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پیر منظور علی نے چیف جسٹس آف پاکستان کی صحت کے شعبے میں بہتری کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ جس طرح دیگر صوبوں میں محکمہ صحت کی بہتری کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں اسی طرح سندھ میں بھی محکمہ صحت پر توجہ دی جائے جو لوٹ مار ، کرپشن،، اقربا پروری کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ محکمہ صحت کو برائے فروخت کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 18 ویں ترمیم کے بعد جناح ہسپتال ، این آئی سی ایچ اور این آئی سی وی ڈی سندھ حکومت کے کنٹرول میں دیا گیا تو اس پر ایک مافیا نے قبضہ کرلیا ، این آئی سی وی ڈی اور جناح ہسپتال بظاہر تو سندھ حکومت کا حصہ ہیں لیکن حکومت کا ان پر کوئی عملدرآمد نہیں، جناح ہسپتال عدالت کے اسٹے آرڈر پر چل رہا ہے اور این آئی سی وی ڈی ایک سیاسی گھرانے نے پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کو گمراہ کرکے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ محکمہ صحت کا حصہ ہونے کے باوجود اس کو علیحدہ حیثیت دی گئی ہے اور تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر 10ارب روپے این آئی سی وی ڈی کے حوالے کردیئے گئے ہیں جس کا کوئی آڈٹ نہیں ہوتا اور اس میں اپنی مرضی سے تقرریاں و تبادلے کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود اس کے سربراہ کو تین سال کی ملازمت کی مدت میں غیرقانونی توسیع دیدی گئی ہے۔ جس کانوٹس لیا جائے۔