ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر امیدواروں کا چنائو

مسلم لیگ ن کی ہائی کمان کو دلچسپ صورتحال کا سامنا

اتوار جون 21:40

چکوال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون2018ء) مسلم لیگ ن نے ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ابھی ٹکٹوں کا فیصلہ نہیں کیا ہے اس وقت پارٹی ہائی کمان کو دلچسپ صورتحال کا سامنا ہے کہ حلقہ این ای64 اور پی پی 21پر سابق رکن پنجاب اسمبلی سردار ذوالفقار علی خان دلہہ نے ٹکٹ کیلئے درخواستیں دے رکھی ہیں۔ جبکہ2013کے انتخابات میں سردار ذوالفقار علی خان دلہہ نے مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے آزاد امیدوار سردار غلام عباس کو سات ہزار کے قریب ووٹوں سے شکست دی تھی۔

حالیہ حلقہ بندیوں میں سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کا ایک لاکھ ووٹوں کا حلقہ این ای64میں شامل کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کا گزشتہ پانچ سالہ ترقیاتی ہوم ورک بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ سردار ذوالفقار علی خان دلہہ اورسابق مشیر وزیراعلیٰ پنجاب ملک سلیم اقبال کے درمیان بلدیاتی انتخابات2015 میں ٹھن گئی تھی اور ملک سلیم اقبال نے میونسپل کمیٹی تلہ گنگ میں سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کے شیر پر نامزد امیدواروں کیخلاف اپنے امیدوار کھڑے کر کے بالٹی نشان حاصل کیا جس کی وجہ سے مسلم لیگ ق کے حافظ عمار یاسر نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 12میں سی9 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرلی۔

(جاری ہے)

اس کے بعد سے دونوں کے درمیان اختلافات مزید بڑھے اور اس میں ایم این اے سردار ممتاز ٹمن بھی شامل ہوگئے۔ ملک سلیم اقبال نے سردار ممتاز ٹمن کو دفاعی پوزیشن پر لانے کیلئے سابق رکن قومی اسمبلی سردار فیض ٹمن جو کہ ممتاز ٹمن کے بھانجے ہیں کو تھپکی دی ہوئی ہے جنہوں نے پہلے ہی آزاد امیدوار کی حیثیت سے کاغذات نامزدگی داخل کر ادیے ہیں جبکہ پی پی23پر بھی ملک سلیم اقبال نے اپنے قریبی ساتھی ملک فلک شیر اعوان کی درخواست برائے ٹکٹ مسلم لیگ ن داخل کرائی ہے۔

سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کا خیال ہے کہ سلیم اقبال مسلم لیگ ن کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اور وہ کسی اور ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ بہرحال سردار ذوالفقار دلہہ نے مقامی پارلیمنٹرینز کو بھی اس تمام صورتحال سے آگاہ کردیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی ہائی کمان نے آئندہ چند دنوں میں ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ٹکٹوں کا فیصلہ کرنا ہے۔موجودہ صورتحال میں 25جولائی کو مسلم لیگ ن کیلئے ضلع چکوال سے کامیابی حاصل کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔