نیب ریفرنسز کا معاملہ لٹک گیا

سینئر وکیل خواجہ حارث اور ان کی ٹیم سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز سے علیحدہ

Fahad Shabbir فہد شبیر پیر جون 10:42

نیب ریفرنسز کا معاملہ لٹک گیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11جون۔2018ء) شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز میں وکیل خواجہ حارث سابق وزیراعظم نواز شریف کی پیروی سے دستبردار ہوگئے، خواجہ حارث نے وکالت نامہ واپس لینے کی درخواست کر دی۔احتساب عدالت میں آج نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے دوران خواجہ حارث نے عدالت سے اپنا وکالت نامہ واپس لینےکی درخواست کی۔

خواجہ حارث نے عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف تینوں نیب ریفرنسز کا ٹرائل 6 ہفتوں میں مکمل کرنے سے متعلق ان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا اور یہ ڈکٹیشن بھی دی کہ ایک ماہ میں ریفرنسز کا فیصلہ کریں۔خواجہ حارث کے مطابق انہیں عدالتی اوقات کے بعد بھی کام کرنے کی ڈکٹیشن دی گئی اور ہفتے اور اتوار کو بھی عدالت لگانے کا کہا گیا۔

(جاری ہے)

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں وہ کام جاری نہیں رکھ سکتے۔خواجہ حارث نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے سے متعلق ان کے موقف کو بھی تسلیم نہیں کیا، جبکہ بحیثیت ایک پروفیشنل وکیل وہ سمجھتے ہیں کہ تینوں ریفرنسز میں دلائل ایک ساتھ دیئے جاسکتے تھے۔واضح رہے کہ خواجہ حارث تقریباً 9 ماہ کے بعد نواز شریف کے نیب ریفرنسز سے علیحدہ ہوئے ہیں۔

خواجہ حارث کے اس فیصلے کے بعد نواز شریف کے خلاف تینوں ریفرنسز بظاہر تعطل کاشکار ہوگئے ہیں اور جب تک سابق وزیراعظم کوئی اور وکیل ہائر نہیں کریں گے، کارروائی آگے نہیں بڑھے گی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیراعظم نواز شریف،، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف زیر سماعت تینوں ریفرنسز کا فیصلہ ایک ماہ میں سنانے کا حکم دیا تھا۔

دوران سماعت نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ 6 ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا وقت دیا جائے جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے تھے کہ 'اب ان کیسز کا فیصلہ ہوجانا چاہیے، ملزمان بھی پریشان ہیں اور قوم بھی ذہنی اذیت کا شکار ہے'۔۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ احتساب عدالت اب ہفتے کے روز بھی تینوں ریفرنسز کی سماعت کرے گی، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ وہ ہفتہ اور اتوار کو عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔جسس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 'خواجہ صاحب آپ ابھی جوان ہیں، میں بوڑھا ہو کر اتوار کو بھی سماعتیں کرتا ہوں'۔