دُبئی: گھر سے پانچ لاکھ درہم چُرانے والی ملازمہ سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئی

عدالت کی طرف سے الزام ثابت ہونے پر ایک سال کی سزا

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر جون 11:39

دُبئی: گھر سے پانچ لاکھ درہم چُرانے والی ملازمہ سلاخوں کے پیچھے پہنچ ..
دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11جُون 2018ء) ایک گھریلو ملازمہ جس کے بارے میں گھر کی مالکہ نے پانچ لاکھ اماراتی درہم مالیت کا قیمتی سامان چُرانے کی رپورٹ درج کروائی تھی‘ عدالتی کارروائی کے دوران جُرم کی مرتکب پائے جانے پر ایک سال کے لیے جیل پہنچ گئی۔ استغاثہ کے مطابق‘ 34 سالہ فلپائنی ملازمہ نے گھر سے 12 پرفیومز کی بوتلیں‘ ایک لیپ ٹاپ‘ ڈیزائنر بیگ‘ پانچ انگوٹھیاں‘ آٹھ بریسلیٹ‘ دو ہار‘ کانوں کی بالیاں‘ کاسمیکٹس‘ تین موبائل فون اور چار گھڑیاں چُرائیں‘ جن کی مالیت پانچ لاکھ اماراتی درہم کے قریب بنتی ہے۔

مقامی عدالت نے ملزمہ کو چوری کا الزام ثابت ہونے پر ایک سال قید کی سزا سُنا دی۔ اس کے علاوہ سزا کی  مُدت ختم ہونے کے فوراً بعد متحدہ عرب امارات سے ڈی پورٹ بھی کر دیا جائے گا۔

(جاری ہے)

چوری کا یہ وقوعہ 31 جنوری 2018ء کو پیش آیا جس کی اطلاع فوری طور پر گھر والوں نے پولیس کو کر دی ۔ 59 سالہ اماراتی سپانسر خاتون کے مطابق ’’میرے بیٹے مجھے نے بتایا کہ ملازمہ نے اُس کی بیوی کا ہار چوری کر لیا ہے۔

اُنہیں یہ ہار ملازمہ کے کمرے سے مِلا۔ اطلاع دینے پر پولیس وہاں پہنچی اور ملازمہ کے کمرے کی تلاشی لی۔ جس پر وہاں سے میری اور میری بیٹیوں کی قیمتی چیزیں بھی برآمد ہوئیں۔ مگر اس وقت پولیس نے اُسے گرفتار نہیں کیا۔‘‘ مُدعیہ کی درخواست پر پولیس دوبارہ 10 فروری 2018ء کو گھر پر آئی‘ تو مُدعیہ نے پولیس سے کہا کہ وہ ملازمہ کو گرفتار کر لے کیونکہ وہ اسے اپنے گھر میں مزید نہیں رکھنا چاہتی۔ملزمہ نے پولیس کی جانب سے تفتیش کے دوران اپنے جُرم کا اعتراف کر لیا۔ اس اعترافی بیان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ سزا کے فیصلے کے خلاف ملزمہ نے نظر ثانی کی اپیل دائر کی دی ہے۔