کشمیری طالب علم طفیل متو کی شہادت کی آٹھویں برسی

متاثرہ خاندان کی طرف سے بیٹے کے قاتلوں کیخلاف قانونی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کااعادہ

پیر جون 12:28

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں2010میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونیوالے کشمیری طالب علم طفیل متو کی شہاد ت کی آٹھویں برسی کے موقع پر انکے والدین نے کہاہے کہ طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان کے بیٹے کے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں اور انہیں ابھی تک انصاف فراہم نہیں کیاگیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سرینگر کے علاقے سعدہ کدل کارہائشی نویں جماعت کا طالب علم طفیل متو جو کہ اپنے والدین کا اکلوتا لخت جگرتھا11جون2010کو غنی میموریل اسٹیڈیم کے قریب بھارتی فورسز کی طرف سے فائر کیاگیا آنسو گیس کا شیل سر میں لگنے سے شدید زخمی ہو گیا تھا جو بعد ازاں شہید ہوگیا تھا ۔

طفیل متو کی شہادت کے بعد مقبوضہ وادی کشمیرمیں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کو سلسلہ شروع ہو گیاتھا اور مظاہرین پر بھارتی فورسز کی فائرنگ اور طاقت کے وحشیانہ استعمال سے 120سے زائد کشمیری شہیداور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے ۔

(جاری ہے)

شہید طالب علم کے والد محمد اشرف متو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے قاتلوں کے خلاف قانونی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ، انہوںنے کہاکہ یہ صرف انکے بیٹے کی شہادت کا معاملہ نہیں بلکہ گزشتہ برسوںمیں عوامی انتفادہ کے دوران بھارتی فورسز نے 400سے زائد بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بناکر شہید کردیا ہے اورنوجوانوں کی شہادت میں ملوث فوجی اہلکاروں کے خلاف قانونی جنگ جاری رکھی جائیگی۔

انہوں نے کہاکہ انہیں بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں تاہم وہ پھر بھی قانونی کارروائی جاری رکھیں گے۔انہوںنے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں جہاں بھارتی فورسز کے ہاتھوں نہتے کشمیری نوجوانوںکوآنسو گیس ، گولیوں اور پیلٹ گنوں کے ذریعے نشانہ بنایاجارہا ہے وہیں اب بھارتی فورسز نے نہتے کشمیریوںکو فوجی گاڑیوں کے ذریعے کچلنے کا نیا طریقہ اختیار کرلیا ہے ۔