مسلم لیگ ن میں ٹکٹوں کے لیے پارٹی فنڈز کے نام پر بھاری رقوم وصول کرنے کا انکشاف

مسلم لیگ ن کے کئی رہنماؤں نے اپنے حلقوں کی بجائے آسان حلقوں میں الیکشن لڑنے کی تگ و دو شروع کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جون 13:03

مسلم لیگ ن میں ٹکٹوں کے لیے پارٹی فنڈز کے نام پر بھاری رقوم وصول کرنے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11 جون 2018ء) : عام انتخابات 2018ء کے پیش نظر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں میں ٹکٹس کی تقسیم کی گونج سنائی دیتی ہے۔ حال ہی میں پی ٹی آئی نے عام انتخابات 2018ء کے لیے اپنے اُمیدواروں کو ٹکٹس جاری کیے جس پر پی ٹی آئی کو سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ تاہم ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس جاری ہیں جس میں ٹکٹ کے اُمیدواروں کے اںٹرویوز بھی کیے جا رہے ہیں۔

مسلم لیگ ن میں ٹکٹس کی تقسیم کے معاملے میں پارٹی فنڈز کی مد میں بھاری رقم وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سابق دور حکومت میں اہم ترین حکومتی عہدوں پر رہنے والے لیگی رہنماؤں اور متعدد ذمہ داران نے اپنے حلقوں کی بجائے آسان حلقوں میں الیکشن لڑنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔

(جاری ہے)

جس کی وجہ سے ن لیگ کے اندر چار دھڑے بن چکے ہیں ۔

ان چار دھڑوں میں ایک چودھری نثارکا ، دوسرا حمزہ شہباز کا، تیسرا مریم کا اور چوتھا دھڑا شاہد خاقان کا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی 35 سے زائد اُمیدواروں کے سفارشی ہیں اور اس کے لیے انہوں نے لابنگ بھی شروع کر رکھی ہے ۔ نوازشریف کے قریبی ساتھیوں میں سے کچھ لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔اسی طرح جن ایم این ایز اور ایم پی ایز کا چودھری نثار کے ساتھ تعلق تھا ان پر بھی نشان لگا دئے گئے ہیں ۔

اور مریم نواز گروپ کسی صورت ان کو ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں ۔ پنجاب میں ٹکٹوں کے معاملے پر مریم نواز اور شہباز شریف کے درمیان بھی ایک سرد جنگ جاری ہے ۔ مریم نواز اپنے گروپ کے زیادہ افراد کو ٹکٹ دلوانا چاہتی ہیں اور اس کے لیے ایسے تمام اُمیدوارجن کو شہبازشریف یا حمزہ کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے ان کے حلقوں کے جعلی سروے کروا کر رپورٹس بھی تیار کی گئی ہیں جن میں ان کی پوزیشن کمزور بتائی گئی ہے اور کئی اُمیدواروں پرسوالیہ نشان بھی لگایا گیا ہے کہ یہ وفاداریاں تبدیل کر سکتے ہیں۔

شہباز شریف اورحمزہ شہباز بھی اپنی لابی کے اُمیدوار لانے کے لیے متحرک ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز وفاق سے زیادہ پنجاب پر اس لیے توجہ دے رہی ہیں کہ وہ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب بن سکتی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ جہاں مسلم ن لیگ کے اندر دھڑے بندی مزید تیز ہو چکی ہے وہیں مریم نواز کے میڈیا سیل اور اہم ترین لیگی رہنماؤں کے قریبی ساتھیوں نے بھی ٹکٹیں دلوانے کے لیے پارٹی فنڈز کے نام پر کروڑوں کی رشوتیں لینا شروع کر دی ہیں ۔

اس حوالے سے اب تک 35 سے زائد کیس سامنے آ چکے ہیں جن میں لاہور کے ایک یونین کونسل کے چئیرمین سے مریم نواز کے میڈیا سیل سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن نے 5 کروڑ روپے ٹکٹ دلوانے کے عو ض لئے ۔ اسی طرح حمزہ کے قریبی ساتھی پر لاہور کے ایک بڑے تاجر سے ٹکٹ دلوانے کے لیے کروڑوں روپے لینے کا الزام ہے ۔ دریں اثناء مسلم ن لیگ نے انتخابی مہم میں ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر مذہبی حلقوں کے ردعمل سے بچنے اورپراپیگنڈہ کر کے پارٹی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے تین مختلف پلان پر کام کا آغاز کر دیا ہے ۔

اس ضمن میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ نوازشریف،، شہباز شریف اور اہم لیگی رہنما مختلف مزاروں پر حاضری دے کر انتخابی مہم شروع کریں گے اور اپنے بینرز اور سٹکرز پر ختم نبوت ﷺ زندہ باد طرز کے نعرے بھی تحریر کروائیں گے ۔ تحریک لبیک پاکستان کو منانے کے لیے بھی چند اہم علما کو ٹارگٹ دے دیا گیا ہے ۔ مسلم ن لیگ میں مریم نواز کے میڈیا سیل کے ساتھ ایک اور میڈیا سیل بھی تشکیل دیا گیا ہے جو تین ماہ سے کام کر رہا ہے اور حکومت جانے سے پہلے تک اس کی تنخواہیں سرکاری کھاتوں سے ادا کی جاتی تھیں۔

پلان تھری میں ایک ایسی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ نام نہاد این جی اوز اور غیر ملکی تنظیموں سے جعلی سروے کروا کر پراپیگنڈہ کریں کہ ن لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہو گیا ہے اور ن لیگ الیکشن جیت رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس کے لیے دو معروف کنسٹرکشن کمپنیاں، تین بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے سربراہان اور 17 سرکاری ٹھیکیدار بھاری فنڈنگ کر رہے ہیں۔