پارٹی ٹکٹ واپس کرنے کا علی ترین کا فیصلہ نامنظور

متعدد کارکنان ترین ہاؤس پہنچ گئے ، علی ترین کے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جون 13:38

پارٹی ٹکٹ واپس کرنے کا علی ترین کا فیصلہ نامنظور
لودھراں (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11 جون 2018ء) : پی ٹی آئی کی جانب سے ٹکٹ ملنے کے باوجود پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کے صاحبزادے علی ترین نے پارٹی ٹکٹ واپس کر دیا۔ جس پر پی ٹی آئی کے کئی کارکنان اور مقامی افراد ترین ہاؤس پہنچ گئے۔ ترین ہاؤس پہنچنے پر کارکنوں اور مقامی افراد نے احتجاج کیا اور علی ترین کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا، جہانگیر ترین نے کارکنان اور مقامی افراد کی بات سنی اور انہیں سمجھانے کی کوشش بھی کی۔

پی ٹی آئی نے عام انتخابات کے لیے ملک بھر میں ٹکٹ ہولڈرز کا اعلان کیا تھا ۔ ٹکٹس کی تقسیم میں پارٹی کے سینئیر رہنماؤں کے سیاسی جانشینوں کو بھی نوازا گیا۔ پی ٹی آئی نے جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو بھی ٹکٹ جاری کیا تھا لیکن علی ترین نے پارٹی ٹکٹ یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ وہ فی الوقت اپنی پڑھائی کے باعث پارٹی کو وقت نہیں دے سکتے۔

(جاری ہے)

علی ترین نے لندن سے جاری اپنے ویڈیو پیغام میں ٹکٹ سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کل ہر جگہ پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹوں کا چرچا ہے کہ کس کو ملے گا اور کس کو نہیں، میرا یہ ماننا ہے کہ ٹکٹ اسے ہی ملنا چاہئیے جو بہترین اُمیدوار ہو اور بہترین اُمیدوار وہ ہے جو ہر وقت پارٹی کو وقت دے سکے ،پارٹی کے لیے کام کرے اور ورکرز کو ساتھ لے کر چلے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ضمنی الیکشن میں بھی ہم گھر گھر گئے اور حکومت کے خلاف 90 ہزار ووٹ اکٹھے کیے جب کہ اس مرتبہ میرے پاس انتخابی مہم چلانے کا وقت کم ہے اور میری ڈگری بھی اختتامی مراحل میں ہے۔

میری ڈگری ستمبر میں ختم ہو گی جبکہ انتخابات جولائی میں ہیں ۔ایسے حالات میں میں 100فیصد وقت انتخابات کو نہیں دے سکتا اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ میں ٹکٹ کا حقدار نہیں ہوں اور پارٹی کو یہ ٹکٹ واپس کرتا ہوں۔ اپنے ویڈیو پیغام میں علی ترین نے مزید کہا کہ میری اپنے ووٹرز سے گذارش ہے کہ خان صاحب جس کو بھی ٹکٹ دے کر کھڑا کریں چاہے وہ کوئی نظریاتی ورکر ہو یا سینئیر سیاستدان ، اسے سپورٹ کریں ۔ میں اور میرے والد بھی اس کو ایسے ہی سپورٹ کریں گے جیسے ہم اپنا الیکشن لڑتے ہیں۔