حمزہ شہباز اور عائشہ احد کے درمیان صلح ہوگئی

چیف جسٹس کے سامنے دونوں فریقین نے بڑا اعلان کردیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جون 14:24

حمزہ شہباز اور عائشہ احد کے درمیان صلح ہوگئی
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11 جون 2018ء) : سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں عائشہ احد کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران عائشہ احد اور حمزہ شہباز شریف عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔دوران سماعت عائشہ احد کا کہنا تھا کہ میری حمزہ سے 2010ء میں شادی ہوئی تھی۔غلام حسین اور سرور ہمارے نکاح کے گواہ ہیں۔ شادی کے بعد سے حمزہ شہباز مجھے مسلسل ذلیل کر رہا ہے۔

جب کہ حمزہ شہباز شریف نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ میری عائشہ احد سے شادی نہیں ہوئی،،چیف جسٹس نے حمزہ شہبازسے مکاملہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے اپنا بڑا سمجھیں،میں آپ دونوں کو بیٹا اور بیٹی مانتا ہوں۔آپ چاہیں تو میں یہ مسئلہ حل کروا سکتا ہوں۔۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں آپ دونوں میں ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہوں۔

(جاری ہے)

حمزہ آپ کہتے ہیں کہ شادی نہیں ہوئی تو میں جے آئی ٹی تشکیل دے دیتا ہوں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ میں دونوں فریقین کا موقف سننا چاہتا ہوں۔دورا ن سماعت حمزہ شہباز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ عاشہ احد اور حمزہ شہباز کی شادی کا کوئی بھی ثبوت موجود نہیں ہے۔دوران سماعت حمزہ شہباز کے وکیل زاہد حسن بخاری کی دلائل دینے کی کوشش کی۔۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حمزہ شہباز کے وکیل کو دلائل دینے سے روک دیا۔

حمزہ شہباز کے وکیل کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس صاحب میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ادب نہیں کریں گے تو ہمیں ادب کروانا آتا ہے۔ چیف جسٹس نے عائشہ احد اور حمزہ شہباز دونوں کو اپنے چیمبر میں طلب کر لیا۔ چیمبر میں دونوں سے ملاقات میں حمزہ شہباز اور عائشہ احد کے مابین معاملات طے پا گئے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز اور عائشہ احد کے مابین معاملات طے پا گئے ہیں، دونوں کے مابین راضی نامہ طے ہوگیا اور صلح ہو گئی ہے۔

فریقین ایک دوسرے کے خلاف مقدمات واپس لیں گے۔ چیمبر میں ہونے والے معاملات میڈیا پر نہیں آئیں گے نہ ہی فریقین میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف بیان دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جن شرائط پر راضی نامہ ہوا ان کو ہرگز منظر عام پر نہیں لایا جائے گا۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے عائشہ احد کیس نمٹا دیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان نے عائشہ احد کیس میں حمزہ شہباز اور عائشہ احد کو عدالت میں طلب کیا تھا،عائشہ احد کا دعویٰ ہے کہ حمزہ شہباز نے ان سے شادی کی تھی اور شادی کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

یاد رہے کہ عائشہ احد نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ حمزہ شہباز شریف نے ان کو ہراساں کیا ور ان پر تشدد بھی کیا تھا۔ 2جون کو حمزہ شہباز کی مبینہ اہلیہ انصاف کے لیے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچ گئی تھیں۔ جس پر سپریم کورٹ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ حمزہ شہباز دوپہر ایک بجے عدالت پہنچ جائیں۔تاہم وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ چیف جسٹس نے حمزہ شہباز کو طلب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کی تھی کہ وہ شہباز شریف کو فون کر کے حمزہ شہباز کی پیشی کو یقینی بنائیں،کیونکہ ہم کسی کی جان کو خطرہ میں نہیں دیکھ سکتے۔