عدالت العالیہ آزاد جموں وکشمیر نے تحلیل شدہ پبلک سروس کمیشن کے حکم سبکدوشی اور قانونی ترمیم کالعدم قرار دیدیا

چیئرمین اور جملہ ممبران کو ان کے مقرر شدہ عرصہ کی تنخواہ ادائیگی کا حکم

پیر جون 16:13

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) عدالت العالیہ آزاد جموں وکشمیر نے تحلیل شدہ پبلک سروس کمیشن کے حکم سبکدوشی اور قانونی ترمیم کالعدم قرار دیتے ہوئے چیئرمین اور جملہ ممبران کو ان کے مقرر شدہ عرصہ کی تنخواہ ادائیگی کا حکم صادر کر دیا۔موجودہ حکومت نے مورخہ 15دسمبر 2016کو ایک آرڈی نیشن کے ذریعہ قانون میں ترامیم کر کے اسی روز چیئرمین اور نو ممبران پبلک سروس کمیشن کو سبکدوشی کر دیا تھا اور ان پر جعلسازی نااہلی اور دیگر الزامات عائد کیے تھے۔

عدالت العالیہ کے جج جسٹس اظہر سلیم بابر نے جملہ الزامات کو رد کرتے ہوئے انہیں حدف کر دیا ہے۔سابق چیئرمین پبلک سروس کمیشن اور آٹھ ممبران کی طرف سے سینئر قانون دان خواجہ عطاء اللہ چک ایڈووکیٹ نے اس کے خلاف عدالت العالیہ میں رٹ دائر کی تھی۔

(جاری ہے)

جبکہ محمد سلیم بسمل سابق ممبر کی طرف سے بیرسٹر ہمایوں نواز ایڈووکیٹ نے الگ رٹ دائر کی تھی۔

حکومت کی جانب سے سینئر قانون دان راجہ محمد حنیف خان ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔۔عدالت العالیہ نے اپنے فیصلہ میںکونسل سائلان کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایکٹ مین کی گئی ترمیم پبلک سروس کمیشن کی غیر جانبداری کو ختم کرنے اور اسے حکومت کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا لہذا اسے کالعدم قرار دیا جا کرقانون اصل حالت میں بحال کر دیا گیا ہے۔قانونی حلقوں نے موجودہ فیصلہ کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے۔جس سے پبلک سروس کمیشن کے ادارہ کے وقار میں اضافہ ہو گا اور وہ حکومتی دبائو سے آزاد ہو گا۔

متعلقہ عنوان :