ملک کے اندر بجلی کا بحران سنگین ،

آئندہ آنے والی حکومت کو شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے،سینیٹ کمیٹی میں انکشاف جون 2018میں بجلی کا شارٹ فال4,559میگا واٹ تھا،گزشتہ کچھ سالوں کے اندر سنجیدہ اقدامات کے باعث بجلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے لیکن پانی میں کمی کے باعث شارٹ فال بڑھ رہا ہے،وزارت توانائی کے وفاقی و صوبائی اداروں کے ذمہ 146ارب جبکہ پرائیویٹ ادارے کے ذمہ 633 ارب روپے واجبات ہیں ،حیسکونے بجلی چوری کی 11ہزار سے زائد درخواتیں دیں مگر صرف104مقدمات درج کئے گئے ،پولیس کے تعاون کے بغیر بجلی کی چوری نہیں روکی جا سکتی، سیکر ٹری توانائی ڈویژن کی سینیٹ توانائی کمیٹی کو بریفنگ کمیٹی نے وزارت توانائی کے تکنیکی معاملات کا جائزہ لینے کیلئے سب کمیٹی تشکیل دیدی

پیر جون 16:13

ملک کے اندر بجلی کا بحران سنگین ،
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کے اندر بجلی کا بحران سنگین ہے، آنے والی حکومت کو اس حوالے سے شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے،جون 2018میں بجلی کا شارٹ فال4,559میگا واٹ تھا،گزشتہکچھ سالوں کے اندر سنجیدہ اقدامات کے باعث بجلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے لیکن پانی میں کمی کے باعث شارٹ فال بڑھ رہا ہے،وزارت توانائی کے وفاقی و صوبائی اداروں کے ذمہ 146ارب جبکہ پرائیویٹ ادارے کے ذمہ 633 ارب روپے واجبات ہیں ،حیسکونے بجلی چوری کی 11ہزار سے زائد درخواتیں دیں مگر صرف104مقدمات درج کئے گئے ،،پولیس کے تعاون کے بغیر بجلی کی چوری نہیں روکی جا سکتی،کمیٹی نے وزارت توانائی کے تکنیکی معاملات کا جائزہ لینے کیلئے سب کمیٹی تشکیل دیدی ۔

(جاری ہے)

بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس سینیٹر فدا محمد کے صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ اجلاس میں ،سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر مولوی فیض محمد، سینیٹر مولا بخش چانڈیو، نگران وزیر توانائی سید علی ظفر، سیکریٹری توانائی یوسف نسیم کھوکھر اور ادارے کے دیکر حکام نے شرکت کی۔ سیکریٹری توانائی یوسف نسیم کھوکھر نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بجلی چوری ملک کے اندر ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی روک تھام کیلئے وزرا اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز کو خطوط لکھے لیکن کسی کے جواب تک نہیں دیا۔

جون 2018میں ملک کے اندر بجلی کی طلب 23,301میگا واٹ اور پیداوار 18,742میگا واٹ تھی جس کے باعث بجلی کا شارٹ فال4,559میگا واٹ رہا۔ پچھلے کچھ سالوں کے اندر سنجیدہ اقدامات کے باعث بجلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے لیکن پانی میں کمی کے باعث بجلی کا شارٹ فال بڑھ رہا ہے۔ فاٹا اور قبائلی علاقوں کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے لیکن ان کا نظام اتنا فرسودہ ہے کہ وہ بجلی کی ترسیل بھی نہیں کر سکتا جس کے باعث ان علاقوں میں 20,20گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔

سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ملک کے اندر اور خصوصا سندھ کے اندر کوئلے کے وسیع زخائر ہیں پھر بھی اپنے ملک کو چھوڑ کر بیرون ممالک سے کوئلہ درآمد کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کو آگا ہ کیا گیا کہ پیسکو کو بھی بجلی فراہم کر رہے ہیں لیکن ان کا سسٹم پوری بجلی برداشت نہیں کر سکتا۔ علاقے کی ضرورت 2,600میگا واٹ ہے لیکن ان کو 1,300میگا واٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

اگر پیسکو اپنا سسٹم اپ گریڈ کرلے تو اس کی ضرورت کے مطابق بجلی فراہم کر سکتے ہیں۔ ادارے کی پالیسی ہے کہ جن علاقوں میں بجلی چوری ہو رہی ہے وہاں 24گھنٹے بجلی فراہم نہیں کر سکتے۔فاٹا، حیدر آباد اور کوئٹہ میں بجلی کے مسائل ذیادہ ہیں۔ کمیٹی نے وزارت توانائی کے تکنیکی معاملات کا جائزہ لینے کیلئے سب کمیٹی بنانے کی منظوری دیدی۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ بھارت ہمارا کھلا دشمن ہے جس نے ہمارے خلاف آبی جارحیت شروع کی ہے اس لیے ہمیں پانی کے علاوہ بجلی بنانے کے دوسرے ذرائع پر بھی کام کرنا ہوگا۔

سیکریٹری توانائی نے بتایا کہ ہم آہستہ آہستہ فرنس آئل سے پیداوار کم کر کے صاف اور سستی بجلی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔نگران وزیر توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں بجلی کے شارٹ فال کے باعث نقصان والے ڈسکوز کو لوڈ شیڈنگ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں امید ہے ان کو جلد ختم کر دیں گے۔ میں اس کمیٹی میں صرف اس لیے آیا ہوں تا کہ سینیٹر حضرات کی تجاویز لے سکوں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں 5فیصد فیڈرز پر 8گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ 10فیصد فیڈرز پر 12گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے کیونکہ وہاں سے واجبات کی وصولی بہت کم ہے۔ لیسکو میں نقصانات کی شرح 12.6فیصد، پیسکو میں 36.6فیصد ہے جبکہ مجموئی طور پر سارے پاکستان میں یہ شرح 17.0فیصد ہے۔سیکریٹری توانائی نے کہا کہملک کے اندر بجلی کا بحران سنگین ہے اور آنے والی حکومت کو اس حوالے سے شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔

سی ای او پیسکو نے کمیٹی کو بتایا کہ 25فیصد صارفین ایسے ہیں جن کی ادائیگی نہ کرنے کے باعث ہمیں 50فیصد نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ 992فیڈرز کی بحالی کیلئے 8سو ارب روپے درکار ہیں۔ علاقے میں 37فیصد بجلی چوری ہو رہی ہے۔ ہم نے بجلی چوری کی 11ہزار سے زائد درخواتیں دائر کیں جن میں سے صرف 104پر ایف آئی آرز درج کی جا سکیں ۔۔پولیس کے تعاون کے بغیر بجلی کی چوری نہیں روکی جا سکتی۔

سیکریٹری توانائی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس وقت ادارے نے وفاقی و صوبائی اداروں سے 146ارب اور پرائویٹ اداروں سے 633ارب اور مجموعی طور پر 779ارب روپے کے واجبات وصول کرنے ہیں۔چکدرہ کا گرڈ اسٹیشن گزشتہ سال مکمل ہو جا نا تھا لیکن معامہ عدالت میں جانے کے باعث ایک سال کی تاخیر ہوئی ہے۔ جولائی2018تک گرڈ اسٹیشن کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گاجس کے بعد علاقے میں لوڈ شیڈنگ کم ہو گی۔