شنگھائی تعاون تنظیم پاک بھارت مسائل کے حل کا ذریعہ بن سکتی ہے

ْتنظیم دونوں ملکوں کے 70سالہ تلخ معاملات حل کرنے میں مدد کر سکتی ہے ،روسی صدر کا انٹرویو خطے کے تمام ممالک اس پلیٹ فورم کو اپنے مسائل حل کرنے کیلئے استعمال کرینگے،وزیر خارجہ وانگ ژی

پیر جون 16:23

شنگھائی تعاون تنظیم پاک بھارت مسائل کے حل کا ذریعہ بن سکتی ہے
چھنگ تائو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) چین اور روس نے کہا ہے کہ 8رکنی شنگھائی تعاون تنظیم امن کا ایک ایسا پلیٹ فورم بن سکتی ہے جس کے ذریعے بھارت اور پاکستان اپنے اختلافات حل کر سکتے ہیں،شنگھائی تعاون تنظیم پاکستان اور بھارت کی شمولیت سے وسیع ہو چکی ہے اور یہ ایک ایسا بہتر پلیٹ فورم پیش کر سکتی ہے جو نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان 70سال سے موجود تلخ معاملات کو حل کرنے میں مدد دی سکتی ہے ان خیالات کا اظہار چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی نے سرکاری ٹیلی ویژن سی جی ٹی این پر اپنے ایک انٹرویو میں کیا ہے انہوں نے کہا ہم جانتے ہیں دونوں ممالک کے درمیان یہ تاریخی تنازعہ ابھی حل طلب ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ہونے کے بعد ہم انہیں ایک بہتر پلیٹ فورم اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی تعمیر کلیئے مواقع فراہم کر سکتے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم دو قوموں کے درمیان تعقات بہتر بنانے کیلئے ایک عظیم محرک ہے، نتیجے کے طور پر یہ علاقائی امن اور سلامتی کیلئے ایک بہتر محافظ ہے اگرچہ ان ممالک کے درمیان تعلقات ہمیشہ مدوجزر کا شکار ہوتے رہے ہیں۔

(جاری ہے)

چینی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے کو مخالف نہیں سمجھنا چاہے انہوں نے واضح کیا ان کے رکن بننے کے بعد دونوں ممال نے کئی معاہدوں اور وعدوں پر دستخط کئے ہیں، ان معاہدوں پر دستخط کرنے سے انہوں نے ان پر عمل کرنے کی ذمہ داری کا بھی مظاہرہ کیا دریں اثناء سی جی ٹی این پر اپنے الگ انٹرویو میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی توقع ظاہر کی کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا فورم پاکستان اور بھارت کو اپنے اختلافات حل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے،انہوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ خطے کے تمام ممالک اس پلیٹ فورم کو اپنے مسائل حل کرنے کیلئے استعمال کرینگے۔چھنگ تائو میں پاکستان اور بھارت کا روایہ ایک دوسرے کے بارے میں نرم تھا ۔