پھلوں کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں شہری انتظامیہ بے بس

ماہ صیام کے آخری ہفتے ایک بار پھر پھلوں کی خریدار ی مشکل،چونسہ آم 160،سندھڑی130،خربوزہ100،کیلے 140،خوبانی 250اور آڑو180روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے کمشنر کے پاس مہنگائی روکنے کا کوئی پلان نہیں پرائس بیورو اور دیگر متعلقہ اداروں کو بند کردینا چاہیے ،شہریوں کا ردعمل ،عید الفطر سے ایک یا دو روز قبل استحکام آجا ئے گا ،ذرائع

پیر جون 16:36

پھلوں کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں شہری انتظامیہ بے بس
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) رمضان المبارک کے آخری ایام میں منافع خوروں نے پھلوں کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ کردیا ہے ،ماہ صیام کے آغاز کے بعد وسط میں قیمتوں میں استحکام آنے کے بعد اب آخری ایام میں ایک بار پھر پھلوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا گیا ہے جس کے باعث روزے داروں کیلئے افطار کے دستر خوان پر پھل ناپید ہوگئے ہیں جبکہ شہری انتظامیہ حسب روایت منافع خوروں کے آگے بند باندھنے میں ناکام رہی ہے ،تفصیلات کے مطابق ماہ صیام کے آخری ہفتے میں ایک بار پھر پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور روزہ داروں کیلئے پھلوں کی خریداری کو مشکل بنا دیا گیا ہے ، بازار میں چونسہ آم 140 تا 160 روپے کلو،سندھڑی آم 100 تا 130 روپے کلو، خربوزہ 100 روپے کلو،گرما 80روپے کلو، تربوز 40 تا 50 روپے کلو ، کیلے 100تا140روپے درجن ، خوبانی 200 تا 250روپے کلو اور آڑو 160تا180روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے ،قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے پھل فروشوں کا کہنا ہے کہ انہیں منڈی سے ہی پھل مہنگے داموں مل رہے ہیں، دوسری جانب منڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ پھلوں کی قیمتوں میں عید الفطر سے ایک یا دو روز قبل استحکام آجائیگا ،اس وقت مارکیٹ میں سندھ کا آم دستیاب ہے اور اسی وجہ سے آم کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے ،تاہم جیسے ہی مارکیٹ میں پنجاب کا آم دستیاب ہوگا ویسے ہی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی جاسکے گی ،پھلوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ کمشنر کراچی شہر میں گرانفروشی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں ،،رمضان المبارک میں عوام کو مہنگے پھلوں کا سامنا رہا اور اب عید الفطر کے نزدیک آتے ہی مرغی اور گائے کے گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوجائیگا جس کو روکنے کیلئے شہری انتظامیہ کے پاس کوئی پلان نہیں ہے ،اگرحکومت مہنگائی پر قابو پانے سے قاصر ہے تو پھر پرائس بیورو اور دیگر متعلقہ اداروں کو بند کردیا جائے تا کہ حکومتی اخراجات میں تو کمی لائی جاسکے ،شہریوں نے مطالبہ کیا کہ صارفین کے حقوق کے تحفظ کی نام نہاد تنظیموں کو بھی اب اپنا کاروبار بند کردینا چاہیے کیونکہ ایسی تنظیمیں صارف سے زیادہ فروخت کنندگان کے تحفظات کا خیال رکھتی ہیں ۔