سعودی عرب: جذبۂ ایمانی سے سرشار خاتون نے تن تنہا مسجد بنوا ڈالی

لگاتار تیس سال تک خاوند کی تنخواہ میں سے رقم بچا کر یہ کارنامہ انجا م دیا

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر جون 16:38

سعودی عرب: جذبۂ ایمانی سے سرشار خاتون نے تن تنہا مسجد بنوا ڈالی
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11جُون 2018ء) آج کل سوشل میڈیا پر ایک سعودی خاتون کی جذبۂ ایمانی سے بھرپور کاوش موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ مذکورہ خاتون کی کہانی نے لوگوں کے دِلوں میں موجود ایمان کی حرارت میں مزید اضافہ کر ڈالا ہے۔ تفصیلات کے مطابق متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی سعودی خاتون اپنے خاوند کی تنخواہ سے مسلسل تیس سال تک معمولی رقم اس نیت سے پس انداز کرتی رہی کہ وہ اس سے ایک مسجد تعمیر کروائے گی۔

آخرکار اُس کی یہ کاوش رنگ لے ہی آئی جب اُس کے سامنے ایک خوبصورت مسجد اُسے اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل کا احساس دِلا رہی تھی۔ اپنی ماں کی عشروں پر محیط اس لگن اور کاوش کو اُس کے بیٹے محمد الحربی نے ٹویٹر کے ذریعے مشہوری دِلا دی۔ الحریبی نے ایک تصویر ٹویٹر پر شیئر کی جس میں اُس کی ماں ایک نو تعمیر شدہ مسجد کے احاطے میں کھڑی ہے۔

(جاری ہے)

الحریبی نے ٹویٹر پر لکھا: ’’اے ماں تم کتنی عظیم ہو۔

۔۔ میری ماں میرے مرحوم باپ کی معمولی تنخواہ سے کبھی لطف اندوز نہیں ہو سکی۔ وہ اس تنخواہ میں سے لگاتار تیس سال تک ایک ریال بچاتی رہی۔ آخر اُس نے میرے باپ سے موسوم مسجد بنا ہی ڈالی۔خدا میرے مرحوم باپ پر آسانیاں نازل فرمائے اور اسے جنت میں اُونچا مقام عطا فرمائے۔ اِنا للہ و اِنا الیہ راجعون۔‘‘ چند گھنٹوں کے اندر ہی یہ ٹویٹ وائرل ہو گئی اور دُنیا بھر میں لاکھوں لوگ اسے دیکھ چُکے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے خاتون کو اس کے انتھک جذبے اور ایمان سے مضبوط وابستگی پر شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور مسجد کو اپنے مرحوم خاوند کا نام عطا کرنے پر اسے وفا شعاری اور ازدواجی محبت و اخلاص کی ایک عمدہ مثال قرار دیا ہے ایک شخص نے ٹویٹ کرتے ہوئے لِکھا کہ اِن شاء اللہ خدا انہیں آخرت میں یکجا کر دے گا۔ جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’’یہ محبت کا خوبصورت ترین رُوپ ہے‘‘۔

متعلقہ عنوان :