سی آر ایس فلاحی ادارے کا غذائی قلت کے شکا ر تھری باشندوں کی امداد کا سلسلہ شروع

پیر جون 17:28

نوکوٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) تھرپارکر میں غذائی قلت کا بحران بدستور قائم بچوں کی اموات سلسلہ تھم نہ سکا سی آر ایس فلاحی ادارے کا غذائی قلت کے شکا ر تھری باشندوں کی امداد کا سلسلہ شروع کردیا ۔تفصیلات کے مطابق ضلع تھرپارکر میں جاری غذائی قلت کا بحران سے تھری باشندوں کئی سالوں سے ناروکنے والا اموات کا سلسلہ کسی صورت تھم نہ سکاہے اور پانچ ماہ میں 258 بچے موت کی آغوش میں جا چکے ہیں سرکاری اسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے اور تھر میں غذائی قلت اور قحط سالی سے تھری باشندوں میں احساس محرومی پائی جاتی ہے اس سلسلے میں تھر پارکر میں ایک فلاحی ادارے (CRF)کی جانب سے تھر کے مختلف علاقوں میں خشک راشن (رمضان پیکیج) تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے مذکورہ راشن بیگ میں آٹا۔

(جاری ہے)

چاول۔دال۔چینی۔ اور دیگر ضرورت اشیاء شامل ہیں اور فلاحی ادارے نے تھرکے تین دیہاتوں میں راشن بیگس تقسیم کئے گئے ہیں جبکہ سی آر ایف کی جانب سے گاؤں طالب چانڈیو میں خاندانوں میں عیدکے کپڑے اور چپلیں اور فی خاندان دوہزار نقدبھی تقسیم کئے گئے ہیں سی آر ایف کے ڈسٹرکٹ کوآرڈنیٹر سید مقصود شاہ نے کہا ہے کہ تھربھی پاکستان کا حصہ ہے اور معدنیات سے مالامال علاقہ ہے لیکن یہاں کی عوام کو آج بھی نظرانداز کیا ہوا ہے اور حکومتوں نے آج تک پستی کا شکار اس عوام کے لئے فلاح کے لئے دلچسپی نہیں دکھائی ہے سی آرایف تھرکے عوام کے ساتھ ہیں اور ہمارے ادارے کی کوشش ہے کہ تھرکے کونے کونے میں آبادلوگوں کی خدمت کے لئے پہنچیں اور ان تھوڑی بہت تکلیف کا ازالہ کرسکیں

متعلقہ عنوان :