ترکی نے شرح نمو کی دوڑ میں اول پوزیشن حاصل کر لی

واں سال پہلی سہہ ماہی میں ترک شرح نمو 74فیصد رہی، تجارت، مواصلات، قیام اور خوردنی اشیا پر مشتمل سروسز سیکٹر کی قدرتی محاصل میں 10 فیصد اضافہ ہوا ، ترک صدر اردگان

پیر جون 18:33

انقرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) ترکی نے ای ای سی ڈی ممالک کو مات دیتے ہوئے شرح نمو کی دوڑ میں اول پوزیشن حاصل کر لی،رواں سال پہلی سہہ ماہی میں ترک شرح نمو 74فیصد رہی، تجارت، مواصلات، قیام اور خوردنی اشیا پر مشتمل سروسز سیکٹر کی قدری محاصل میں 10 فیصد اضافہ ہوا ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکی نے ای ای سی ڈی ممالک کو مات دیتے ہوئے شرح نمو کی دوڑ میں اول پوزیشن حاصل کی ہے ۔

ترک معیشت کی شرح نمو سال کی پہلی سہ ماہی میں 74 فیصد تک رہی ہے۔ملک کی قومی پیداوار کو تشکیل دینیو الی سرگرمیوں کا جائزہ لینے سے اس بات کا مشاہدہ ہوا ہے کہ سال 2018 کی پہلی سہ ماہی میں ایک سال قبل کے اسی دورانیہ کے مقابلے میں شعبہ زراعت نے 46 فیصد، صنعتی شعبے نے 88 فیصد جبکہ شعبہ تعمیرات نے 69 فیصد کی شر ح سے ترقی کی ۔

(جاری ہے)

تجارت، مواصلات، قیام اور خوردنی اشیا پر مشتمل سروسز سیکٹر کی قدری محاصل میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سالانہ جی ڈی پی میں ایک سال قبل کے اسی دورانیہ کے مقابلے میں 72 فیصد کی شرح سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ان اعداد و شمار کے حوالے ٹویٹر پر اپنا جائزہ پیش کرنے والے صدر رجب طیب ایردوان نے لکھا ہے کہ "تمام تر اقتصادی حملوں اور چالوں کے باوجود مضبوط ماکرو بنیادوں پر شرح نمو کا سفر جاری ہے۔"جناب ایردوان نے لکھا ہے کہ "ترک معیشت نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 74 فیصد ترقی کی ہے، ہم اقتصادی تعاون و ترقیاتی تنظیم یعنی اوا ی سی ڈی ممالک میں اول نمبر پر، دنیا کی بڑی ترین اقتصادیات میں شامل 19 ممالک اور یورپی یورپی پر مشتمل جی۔ 20 ممالک کے درمیان دوسرے نمبر پر ہیں۔ ترکی دنیا کے تیز ترین رفتار سے ترقی کی جانب گامزن ممالک کی صف میں شامل رہنے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

متعلقہ عنوان :