شام،فضائی حملوں میں بچوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

سمجھوتے پر کاربند رہنے کے لئے فریقین پر دباو ڈالا جائے، سیکرٹری جنرل انتونیو گیترس

پیر جون 18:33

جنیوا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) اقوام متحدہ نے شام میں فضائی حملے میں بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے، سمجھوتے پر کاربند رہنے کے لئے فریقین پر دباو ڈالا جائے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس نے شام کے شہر ادلب میں کئے جانے والے فضائی حملوں میں بچوں سمیت شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سیکرٹری جنرل کے ترجمان دفتر سے جاری کردہ بیان میں قزاقستان کے شہر آستانہ میں طے پانے والے سمجھوتے کی رو سے ادلب کے کم کشیدگی والا علاقہ ہونے کی یاد دہانی کروائی گئی ہے اور سمجھوتے کے ضامنوں یعنی روس،، ترکی اور ایران سے اپیل کی گئی ہے کہ سمجھوتے پر کاربند رہنے کے لئے فریقین پر دباو ڈالا جائے۔

(جاری ہے)

بیان میں ،ادلب کے شمالی گاوں زردینہ پر 7 اور 8 جون کو فضائی حملے کا ذکر کرتے ہوئے، کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گٹرس نے، 60 فیصد آبادی کے جھڑپوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والے شہریوں پر مشتمل شہر ادلب پر کئے جانے والے فضائی حملوں اور ان حملوں میں بچوں سمیت شہریوں کی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

گٹرس نے فوری طور پر ادلب پر حملوں کو بند کئے جانے اور شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ شام کے علاقے ادلب میں ایک بچوں کے ہسپتال اور شہری رہائشی علاقوں پر انتظامیہ کے جنگی طیاروں کی طرف سے کئے جانے والے حملوں میں 17 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔جمعرات کے دن بھی ادلب کے گاوں زردینہ میں شہری رہائشی مقامات پر فضائی حملوں میں کم از کم 42 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں 4 سے 5 مئی 2017 کو منعقدہ اجلاس میں ،شام کے شمال مغرب میں فوجی مخالفین اور انتظامیہ مخالف مسلح گروپوں کے زیر کنٹرول علاقے ،ادلب کو کم کشیدگی والا علاقہ اعلان کیا گیا تھا تاہم انتظامیہ اور وقتا فوقتا روس کی طرف سے علاقے پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔