کے ایم یو پشاور کی ڈائر یکٹرکو الٹی انہا نسمنٹ سیل سیدہ آسیہ بخاری بین الاقوامی کا نفر نس میں شر کت کے بعد وطن واپس پہنچ گئیں

پیر جون 18:37

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) خیبر میڈیکل یونیورسٹی(کے ایم یو) پشاور کی ڈائر یکٹرکو الٹی انہا نسمنٹ سیل(کیو ای سی ) سیدہ آسیہ بخاری تر کی کی یو نیو رسٹی بندیرمہ انیدی آئلول یونیورسٹی میں کو الٹی ایشو رنس کے مو ضو ع پر منعقدہ بین الاقوامی کا نفر نس میں شر کت کے بعد وطن واپس پہنچ گئیں۔ انہیں اس کانفر نس میں شرکت کی دعوت ترکی کی بندیرمہ انیدی آئلول یونیورسٹی نے دی تھی۔

واضح رہے کہ اس بین الاقوامی کانفرنس میں بر طا نیہ، امر یکہ، بحرین، آئر لینڈ، پو لینڈ اور شما لی قبر ص کے علاوہ تر کی کی 73بین الاقوامی معیا ر کی جا معات کے نمائندوں نے شر کت کی۔ اس کا نفرنس کا مقصد اعلیٰ تعلیم میں کو الٹی ایشو رنس کے مختلف پہلو ?ں پر تبا دلہ خیا ل کر نا تھا۔

(جاری ہے)

اس کا نفر نس میں پاکستان کی نما ئیندگی کا شر ف کے ایم یو کی ڈائر یکٹر کو الٹی انہا نسمنٹ سیل آسیہ بخا ری کے حصے میں آیا جنہوں نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کو الٹی ایشو رنس کے مو ضو ع پر شرکائ کو نہ صر ف پریزینٹشن دی بلکہ انکے سوالات کے جو ابات بھی دئیے۔

انھوں نے اس مو قع پر شرکا ئ کو بتایا کہ پاکستان میں لگ بھگ دو سو جا معا ت میں کو الٹی انہا نسمنٹ سیل قا ئم ہیں جو ہا ئر ایجو کیشن کمیشن کی کو الٹی ایشو رنس ایجنسی کی براہ راست نگرانی میں کام کر تے ہیں۔ انھو ں نے بتا یا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار کو الٹی انہا نسمنٹ سیلز کے با عث دن بدن بہتر ہو رہا ہے اور اسکے ثمرات بہترین تحقیق اور نتا ئج کی صو رت میں سا منے آرہے ہیں۔

آسیہ بخاری نے انہیں کا نفر نس میں مدعو کر نے پر منتظمین کا شکر یہ ادا کیا اور تو قع ظا ہر کی کہ دو طر فہ رابطوں اورتعا ون کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جا ئے گا۔ دریں اثنا ئ یو نیو رسٹی کے وائس چا نسلر پروفیسر ڈاکٹر ارشد جا وید نے آسیہ بخاری کی تر کی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں پاکستان کی کا میا ب نما ئیندگی پر مبا رک باد پیش کر تے ہو ئے کہا ہے کہ اسطر ح کے دوطر فہ رابطوں اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شر کت سے جہاں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے مو اقع ملتے ہیں وہاں ایک بڑے فورم پر پاکستان کی نما ئیندگی کے ذریعے وطن عزیز کا بہتر امیج اجا گر کر نے کے مو اقع بھی دستیا ب ہو تے ہیں۔

انھو ں نے ان دوطر فہ رابطوں کو خو ش آئیند قرار دیتے ہو ئے مستقبل میں بھی اسطر ح کی سر گر میوں کی سرپر ستی جا ری رکھنے کا عزم ظا ہر کیا۔