25جولائی سےپہلےفیصلہ کرنا کوئی مجبوری ہےتو کردیں، نوازشریف

قانونی تقاضےاوربنیادی حقوق اہم ہیں،یا پھرالیکشن سےپہلےفیصلہ،مقدمے کی ڈوریں سپریم کورٹ سےہلائی جارہی ہیں،چیف جسٹس کے حکم کےبعد خواجہ حارث کیس لڑنے سےدستبردارہوگئے،مجھےکٹہرے میں کھڑا کرکے آئینی حق سے محروم کیا جارہا ہے،جبکہ ڈکٹٹرمشرف کی بلائیں لی جارہی ہیں۔ قائد مسلم لیگ ن نوازشریف کی پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر جون 18:35

25جولائی سےپہلےفیصلہ کرنا کوئی مجبوری ہےتو کردیں، نوازشریف
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 جون 2018ء) : پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ 25جولائی سے پہلے فیصلہ کرنا مجبوری ہے توپھر فیصلہ کردیجیے، قانونی تقاضے اور بنیادی حقوق اہم ہیں،یاپھر الیکشن سے پہلے فیصلہ کرنا اہم ہے،مقدمے کی ڈوریں سپریم کورٹ سے ہلائی جارہی ہیں۔۔چیف جسٹس کے حکم کے بعدخواجہ حارث میرا کیس لڑنے سے دستبردار ہوگئے،مجھے کٹہرے میں کھڑاکرکے آئینی حق سے محروم کیا جارہا ہے۔

انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے نیب کورٹ کوحکم دیا کہ ایک مہینے میں فیصلہ کیا جائے۔۔سپریم کورٹ کے حکم پروکیل خواجہ حارث نے کہاکہ ایسا ممکن نہیں ہے۔آج مجھے احتساب عدالت نے کہا کہ میں نیا وکیل کرلوں۔

(جاری ہے)

احتساب عدالت سے نئے وکیل کیلئے وقت مانگا ہے۔لیکن کوئی بھی نیا وکیل بھی اتنی دیر پیش ہونے کیلئے تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ وکیل کیلئے تین صندوقوں میں بند کاغذات کودیکھنے اور تمام دستاویزات کودیکھنے کتنا وقت درکار ہوگا؟ ایسانہیں ہوگا کہ وہ کل وکالت نامہ جمع کروائے۔آج تک کسی وکیل کومجبور کیا گیا ہوگا کہ سارا دن مقدمہ لڑے اور پھر چھٹی کے روزبھی پیش ہو۔خواجہ حارث میرا کیس لڑنے سے دستبردار ہوگئے ۔انہوں نے کہاکہ وہ ہفتے اور اتوار کوپیش نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 10اے اور آرٹیکل 25تحت فیئرٹرائل کیخلاف ہے۔مجھ سے تمام حق چھینے جارہے ہیں۔ایسے حالات بنادیے گئے کہ میں وکیل سے بھی محروم ہوجاؤں۔میرے خلاف مقدمہ احتساب عدالت میں ہے لیکن اس مقدمے کی ڈوریں سپریم کورٹ سے ہلائی جارہی ہیں۔میں 100کے لگ بھگ پیشیاں بھگت چکا ہوں۔انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس نے کہا کہ تشہیر کیلئے بیوی سے ملنے اور چھٹی کی بات کرتا ہوں۔

مجھے ان ریمارکس سے بہت دکھ اور صدمہ پہنچا ہے۔میں نے ان سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی۔مجھے نہیں معلوم انہوں نے کیوں ریمارکس دیے۔۔نوازشریف نے کہاکہ پاناما کیس سے شروع ہونے والی آخری قسط بڑی ظلم کی داستان ہے۔انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی کیسے بنی؟ واٹس ایپ کال کہاں سے کس نے کروائی۔جب کرپشن ثابت نہ ہوئی تواقامہ نکالا گیا۔خیالی تنخواہ پروزیراعظم ہاؤس سے نکال دیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ جب بات نہ بنی تونیب میں ریرنسزدائر کیے گئے پھر ضمنی ریفرنسز بنائے گئے۔ضمنی ریفرنسز اس وقت تک آئیں گے جب تک کچھ گڑھ نہیں لیا جاتا۔بار بار مئوقف بدلے گئے اور ہماری درجنوں درخواستوں کومسترد کیا۔لیکن استغاثہ اپنے تمام دعوووں میں ناکام رہا۔انہوں نے کہاکہ عدالت نے طے کرلیا تھا کہ تینوں ریفرنسز کے فیصلے ایک ساتھ سنائے جائیں گے۔

ہماری اس پراستدعا کومسترد کیا گیا کہ الگ الگ کیس سنا جائے۔بعد میں عدالت نے اپنے اس فیصلے سے بھی انحراف کرلیا۔انہوں نے کہاکہ قانونی تقاضے اہم ہیں۔یاپھر الیکشن سے پہلے فیصلہ کیا جائے۔پاکستانی شہری کے بنیادی حقوق اہم ہیں۔یاپھر الیکشن سے پہلے فیصلہ کیا جائے۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ وکلاء کوجبراً پیش ہونے پرمجبور کیا جا رہا ہے۔

مجھے میرے آئینی حق سے محروم کیا جارہا ہے۔مشرف کوتمام حق فراہم کیے گئے۔مشرف جوغداری کا مرتکب، 60ججز کو بچوں سمیت بند کردیا۔۔پاکستان کودہشتگردی کی آگ میں جھونکا گیا۔ س ڈکٹیٹرکی کس طرح بلائیں لی جا رہی ہیں جس نے دو مرتبہ ملک کا آئین توڑا۔ اس ڈکٹیٹرکی بلائیں لی جا رہی ہیں جس نے آئین میں من مانی ترامیم کیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 25جولائی سے پہلے فیصلہ کرنا کوئی مجبوری ہے توپھر فیصلہ کردیں۔مجھے اپنے دفاع کے حق سے محروم کرکے کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔