پنجاب یونیورسٹی کی تحقیقی پیداوار میں اضافہ ، علمی روایات بحال کریں گے‘ ڈاکٹر نیاز احمد

اساتذہ معیاری اور معیشت پر مثبت اثر رکھنے والی تحقیق کریں ،انتظامیہ کی طرف سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائیگا

پیر جون 18:43

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں تحقیق کو فروغ دیتے ہوئے تحقیقی پیداوار میں اضافہ اور ماضی کی شاندار علمی روایات کو بحال کریں گے۔ انہوں نے اساتذہ پرزور دیا کہ وہ معیاری اور معیشت پر مثبت اثر رکھنے والی تحقیق کریں جس کیلئے انتظامیہ کی طرف سے انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے پنجا ب یونیورسٹی نیو کیمپس کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کرتے ہوئے اساتذہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اساتذہ سے بات چیت کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ نئے علوم کی تخلیق کرنا یونیورسٹیوں کا بنیادی فریضہ ہے اور اگر یونیورسٹیاں نیا علم تخلیق نہ کریں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنا کام نہیں کر رہیں اوراس سے ہماری بقاء ممکن نہ رہے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی ملک میں معاشی و سماجی استحکام کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کر ے گی۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے گرایجوئیٹس کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقی پیداوار میں اضافے کیلئے یونیورسٹی انتظامیہ میرٹ پر سختی سے عمل کرکے اساتذہ کو بھرتی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے فیکلٹی ممبران کی تعیناتی میںمعیار پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیںکیا جائے گا کیونکہ معیار پر سمجھوتہ کر کے کی جانے والی تعیناتیاں نہ صرف ادارے بلکہ قوم کے ساتھ زیادتی ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے تمام معاملات میں شفافیت کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ یونیورسٹی میں علمی و تحقیقی کلچر کے معیار کو اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے معیار کے مطابق بلند کرے گی ۔ انہوں نے اساتذہ کو ایک دوسرے کی عزت واحترام اور مدد کرنے کی تلقین کی۔اس موقع پر وائس چانسلر نے انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل انجیئنرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں کیمیکل ری ایکشن انجیئنرنگ لیب کا افتتاح بھی کیا۔ فیکلٹی ممبران نے وائس چانسلر کر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نیاز احمد کی متحرک قیادت اور تجربے کی بدولت یونیورسٹی کے دیرینہ مسائل جلد ہوں جائیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :