حسن نواز کی لندن پراپرٹی کی تفصیلات میں مدد فراہم کرنیوالے بزنس مین کو عمران خان کے ساتھ بیرون ملک جاتے ہوئے روک لیا گیا

پیر جون 19:06

حسن نواز کی لندن پراپرٹی کی تفصیلات میں مدد فراہم کرنیوالے بزنس مین ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) شریف فیملی کے قانونی مشیر کے انکار کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹے حسن نواز کی لندن پراپرٹی کی تفصیلات میں مدد فراہم کرنے والے بزنس مین کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ بیرون ملک جاتے ہوئے روک لیا گیا۔ جبکہ سید ذوالفقار عباس بخاری کی جانب سے وزارت داخلہ سے باقاعدہ عمرہ کی ادائیگی کا اجازت نامہ بھی لے رکھا تھا۔

اس کے باوجود ایف آئی اے امیگریشن حکام نے عمران خان کے قریبی دوست کو روک لیا جس کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کا طیارہ تاخیر سے سعودی عرب کیلئے روانہ ہوا۔ ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ شریف فیملی عید سے قبل جیل جانے کے خوف کی وجہ سے ٹال مٹول سے کام لے کر تاخیری حربے استعمال کررہی ہے اور میڈیا کی توجہ بھی مرکوز کروانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔

(جاری ہے)

لندن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاجزادے حسن نواز پراپرٹی کے حوالے سے دستاویزات کی فراہمی میں عمران خان کا ساتھ دینے والے بزنس مین زلفی بخاری کے خلاف نیب راولپنڈی کی تحقیقات جاری ہے۔ لیکن اس کے باوجود زلفی بخاری پاکستان میں موجود ہے اور نیب حکام کی جانب سے ان کا نام ای سی ایل میںڈالنے کی وزارت داخلہ کو ہدایت کی گئی تھی بعدازاں عمران عمرے کی ادائیگی کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ وزارت داخلہ کا عجازت نامہ ہونے کے باوجود روک لیا گیا۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ نیب راولپنڈی کی جانب سے پانامہ پیپرز کے آنے کے بعد چھ آف شورز کمپنیوں کی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے 27فروری کو نوٹس بھیجا گیا تھا ذرائع کا مزید کہنا تھا احمد سعید وزیر نیب راولپندی زلفی بخاری کو نوٹس بھیجا گیا لیکن زلفی بخاری پاکستان میں موجود ہونے کے باوجود پیش نہیں ہوئے ۔ واضح رہے برطانوی شہریت کے حامل ذوالفقار عباس بخاری لندن میں شریف فیملی کی تحقیقات کے دوران عمران خان کے قریب آئے اور انہیں دستاویزات کی فراہمی کے حوالے سے اہم رول ادا کیا۔

دوسری جانب ممکنہ طور پر اسلام آباد احتساب عدالت کے فاضل جج محمد بشیر خان نے ایون فیلڈ پراپرٹی میں حتمی دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا جانا تھا لیکن گزشتہ روز شریف فیملی کے قانونی مشیر خواجہ حارث دلائل دینے کی بجائے وکالت نامہ واپس لے کر چلے گئے اور کہا کہ میرے اوپر دبائو ہے اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ سماعت پر مریم نواز کے وکیل احمد پرویز بھی اپنا وکالت نامہ واپس لے گئے اور آئندہ شریف فیملی کے وکلاء کی ٹئیم کیس کی تیاری کیلئے مزید محلت دینے کی استدعا کریں گے۔