پی ٹی آئی کی تبدیلی یا سیاسی رہنماؤں کی؟

پی ٹی آئی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی شمولیت، کون کہاں سے آیا، کون کہاں سے کس کا نعرہ لگائے گا ؟ کیا پاکستان تحریک انصاف اپنے سپورٹرز کو مطمئن کر پائے گی ؟ الیکشن ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات کا معاملہ کیسے حل ہو گا؟ پڑھئے ایک مفصل رپورٹ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جون 19:44

پی ٹی آئی کی تبدیلی یا سیاسی رہنماؤں کی؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11 جون 2018ء) : عام انتخابات 2018ء کے پیش نظر سیاسی جماعتوں نے اپنے اُمیدواروں میں ٹکٹس کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف نے عام انتخابات کے لیے اپنے پارٹی اُمیدواروں کا اعلان کیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے قومی اسمبلی کے 173 اور صوبائی اسمبلیوں کے 290 امیدواروں کی فہرست جاری کی گئی ، اس فہرست پر جہاں سیاسی حریفوں نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

وہیں پی ٹی آئی کے اندر بھی کئی اختلافات نظر آئے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے خیبرپختونخواہ میں صوبائی اسمبلی کے81 اُمیدواروں، سندھ اسمبلی کے فی الحال21 حلقوں،،بلوچستان اسمبلی کے23 حلقوں ، اور پنجاب کے 165 حلقوں کے لئے انتخابی اُمیدواروں کو ٹکٹ جاری کیا گیا۔

(جاری ہے)

ٹکٹس کی فہرست پر پی ٹی آئی کو شدید تنقید اور اعتراضات کا سامنا ہے۔ ناقدین اور ناراض کارکنان کا کہنا ہے کہ پارٹی نے اپنے اہم اور بانی رہنماؤں کو نظر انداز کر کے حال ہی میں پارٹی میں شامل ہونے والے سیاسی رہنماؤں کو ٹکٹ جاری کیا جو پارٹی کے نظریاتی رہنماؤں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔

پی ٹی آئی نے ٹکٹ کی تقسیم میں اپنے اہم رہنماﺅ ں کو نظر انداز کیا ۔ عوام کی جانب سے بھی پی ٹی آئی کو جس تنقید کا سامنا تھا وہ یہی تھی کہ پی ٹی آئی نے اپنی جماعت کے نظریاتی رہنماﺅں کو نظر انداز کر کے دوسری جماعتوں سے آئے سیاستدانوں کو ٹکٹ دی جبکہ پی ٹی آئی کی ٹکٹ تقسیم میں اقربا پروری کی جھلک بھی دیکھنے کو ملی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی نے جن سیاستدانوں پر کرپشن اور عوام کا پیسہ لوٹ کر کھانے کا الزام عائد کیا اب انہی میں سے کئی سیاسی رہنما پارٹی میںشامل کر کے ان کو ٹکٹس دے دئے ہیں۔

حال ہی میں پی ٹی آئی میںشامل کیے گئے نئے رہنماﺅں میں زیادہ تعداد ان کی ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی حریف مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ذوالفقار کھوسہ کا شمار سینئیر سیاستدانوں میں ہوتا ہے ، وہ 2012سے سینیٹر رہے اور سابق گورنر پنجا ب بھی ہیں۔ذوالفقار محمد کھوسہ مسلم لیگ ن سے منسلک تھے اور پارٹی قیادت سے اختلافات کی وجہ سے انہوں نے یکم جون 2018کو پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔

جبکہ ان کے بیٹے اور سابق رکن صوبائی اسمبلی دوست محمد کھوسہ نے بھی پی ٹی آئی میںشمولیت اختیار کر لی۔ شہریار ریاض کا تعلق بھی مسلم لیگ ن سے تھا ، انہوں نے گذشتہ انتخابات میں پی پی12راولپنڈی سے الیکشن جیتا لیکن اب پی ٹی آئی کا حصہ ہیں۔ سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور بھی پہلے مسلم لیگ ن میں تھے۔لیکن پارٹی مخالف بیان دینے پر انہیں مستعفی ہونا پڑا جسکے بعد انہوں نے 2015میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔

گوجرانوالہ سے رانا نذیر احمد خان این اے 99سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر تھے لیکن اب پی ٹی آئی کا حصہ ہیں۔خسرو بختیار مسلم لیگ ق سے مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے۔ پارٹی قیادت سے اختلاف اور جنوبی پنجاب کو اس کا حق نہ ملنے پر انہوں نے جنوبی صوبہ محاذ بنا یا جس کے بعد جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کو پی ٹی آئی میں ضم کر دیا گیا۔ میر بلخ شیر مزاری بھی مسلم لیگ ن کا حصہ رہے ۔

مظفر گڑھ سے سردارمحمد جتوئی پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر تھے لیکن پھر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔کر م داد واہلہ نے عام انتخابات2013ءمیں پی پی 219خانیوال سے آزاد اُمیدوار کی حیثیت میں الیکشن لڑا اور مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے۔ لیکن عام انتخابات سے قبل اب اپریل 2018میں پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔قیصرعباس خان مگسی پی پی 264لیہ سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔

اوراپریل 2018میں پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔ راجن پور سے بھی مسلم لیگ رہنما جعفرخان لغاری مئی 2018میں پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔ لالی برادران نے بھی مسلم لیگ ن سے کنارہ کشی اختیار کر کے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔ڈیرہ غازی خان سے مسلم لیگ ن کے رہنما سردار اخترنے جون 2018میں پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔ڈیرہ غازی خان سے مسلم لیگ ن کے رہنما سردار جاوید اختر نے جون 2018میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔

چکوال سے تعلق رکھنے والے سردار غلام عباس کا بھی پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق تھا۔انہوں نے حال ہی میں پی ٹی آئی جوائن کر لی۔بہاولنگر سے مسلم لیگ ن کے رہنما طاہر بشیر چیمہ مئی 2018میں پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے وہاڑی سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ کر مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والے طاہر اقبال چودھری نے بھی 2017میں پی ٹی آئی جوائن کی اور مظفر گڑھ سے مسلم لیگ ن کے رہنماباسط بخاری نے بھی اپریل 2018میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی اورفیصل فاروق چیمہ بھی مسلم لیگ ن سے پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔

مسلم لیگ ن کے لیاقت جتوئی نے بھی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔ یہ تمام وہ لوگ ہیں جن پر پی ٹی آئی نے کرپشن اور لوٹ مار کے الزامات عائد کیے۔۔پی ٹی آئی میں شامل ہونے والی پیپلز پارٹی کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے سیاسی کیرئیر کا آغاز مسلم لیگ ق سے کیا،2008میں انہوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اب مئی2017میں انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کیا۔

پی ٹی آئی نے عام انتخابات 2018 کے لیے فردوس عاشق اعوان کو این اے 72 سیالکوٹ سے ٹکٹ جاری کر رکھا ہے۔ بابر اعوان 1997سے پیپلز پارٹی سے منسلک تھے، اور انہوں نے 2017میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی۔ ندیم افضل چن کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا۔لیکن انہوں نے اپریل 2018میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی۔صمصام بخاری کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا، جس کے بعد 2015ءمیں انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔

نذر محمد گوندل بھی پیپلز پارٹی کا حصہ تھے اور منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے نذر محمد گوندل نے جون 2017میں پی ٹی آئی میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا۔ ساہیوال سے نوریز شکورکا پیپلز پارٹی سے تعلق تھا جس کے بعد2011میں وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔راولپنڈی سے غلام سرور خان پیپلزپارٹی کا حصہ تھے۔جس کے بعد انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے اور پھر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور این اے 53کے اُمیدوار ٹھہرے۔

شہاب الدین سیہڑ کا بھی پیپلز پارٹی سے تعلق تھا جس کے بعد وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔ جمیل شاہ بھی پی پی218خانیوال سے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے لیکن اب پی ٹی آئی کا حصہ ہیں۔ پارٹی کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نے 1980کی دہائی میں پاکستان مسلم لیگ ن میںشمولیت اختیار کی۔1993ءمیں نواز شریف نے مبینہ طور پر شاہ محمود قریشی کو ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد انہوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

بیس سال پیپلز پارٹی میں رہنے کے بعد شاہ محمود قریشی نے 2011میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔۔پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چودھری کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے تھا، 2013ءکے انتخابات کے بعد وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔ اسی طرح اصغر علی شاہ کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے تھا اور وہ قومی اسمبلی کی نشست این اے 122سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر تھے، نور عالم خان بھی این اے 3 سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر رہے اور مئی2013میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی۔

پی ٹی آئی میں مسلم لیگ ن کے کرپٹ لوگوں کی موجودگی اور پیپلز پارٹی سے آئے سیاستدانوں کا شامل ہونا ،یہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی جانب سے ان لوگوں کو ٹکٹ دینا ایک بحث بن گیا ہے۔ عام انتخابات قریب آتے ہی نہ صرف ان رہنماﺅں کو پارٹی میں جگہ دی بلکہ اپنے اہم رہنماﺅں کو نظر انداز کر کے انہی لوگوں کو پارٹی ٹکٹ بھی جاری کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی نے ان تمام لوگوں کو ٹکٹس جاری کرتے ہوئے الیکٹیبلز کی سیاست کھیلنے کی کوشش کی ہے لیکن مستقبل میں اگر انہی لوگوں نے پارٹی کے اندر کوئی فارورڈ بلاک تشکیل دے دیا تو پی ٹی آئی کو سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے علاوہ ق لیگ اور ایم کیو ایم سے بھی کئی رہنما پی ٹی آئی میں شامل ہوئے جنہیں پی ٹی آئی نے خندہ پیشانی سے اپنی پارٹی میں خوش آمدید کہا۔ ان رہنماﺅں میں2018مارچ میں پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے والے ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ، ایم کیو ایم سے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے رشید گوڈیل، 2012 ءمیں پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے والے ق لیگ سے تعلق رکھنے والے علیم خان،،حال ہی میں پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے عمر ایوب،چودھری شجاعت کے بہنوئی اور ق لیگی رہنما میجر طاہر صادق ، ق لیگی رہنما غلام بی بی بھروانہ،ق لیگ سے ہی تعلق رکھنے والے احد چٹھہ، حامد ناصر چٹھہ،طالب نکئی، احمد شاہ کگھہ اور محمد شاہ کگھہ شامل ہیں۔

احمد شاہ کگھہ عام انتخابات 2018ءمیں پی ٹی ٹی آئی کے ٹکٹ پر پی پی 193سے الیکشن لڑیں گے جبکہ ان کے بھائی محمد شاہ کگھہ این اے 145سے الیکشن لڑیں گے۔دونوں بھائی کئی مقدمات میں نامزد ہیں،احمد شاہ ڈکیتی جبکہ محمد شاہ کو زیادتی کیس میں نامزد کیا گیا۔یہی نہیں پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ ریاض نے بھی حال ہی میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔ ق لیگ سے سردار یار محمد رند،عامر سلطان چیمہ، محمد خان لغاری شامل ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ ن لیگی رہنما اور شبنم زیادتی کیس کے مرکزی ملزم فاروق بندیال کے پی ٹی آئی میں شمولیت پر پارٹی کارکنا ن اور پی ٹی آئی کے حمایتیوں نے پارٹی قیادت اور عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جس کے بعد عمران خان نے فاروق بندیال کو پارٹی سے باہر نکالنے کا حکم دے دیا۔ پی ٹی آئی میں ٹکٹ کی تقسیم پر پارٹی کارکنان نے ہی ایک اتحاد تشکیل دے دیا اور پارٹی چئیرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ کے باہر احتجاج کیا ۔

جس پر عمران خان نے ٹکٹ تقسیم پر اپنے کارکنان اور پارٹی کے حمایتی لوگوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جس کرپٹ مافیا اور ملک کو لوٹنے والوں کے خلاف پی ٹی آئی نے جدو جہد کی اور اپنے سیاسی منشور کے تحت کرپٹ مافیا کے خلاف آواز اُٹھائی آج انہی لوگوں کو پارٹی میں شامل کر کے عمران خان نے یہ ثابت کر دیا کہ انہوں نے بھی الیکٹیبلز کی سیاست کھیلنے کو ترجیح دی اور ایسا کر کے یقینا انہوں نے اپنی پارٹی کے سپورٹرز اور کارکنان کو مایوس کیا۔

جبکہ پی ٹی آئی میں شامل دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کے بارے میں کہا یہ جارہا ہے کہ پچھلے دور حکومت میں پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لینے والے خود ہی پی ٹی آئی کے بازو بن گئے ہیں، اب کس تبدیلی کی آواز سنائی دے گی ؟ کون کہاں سے کس کا نعرہ لگائے گا؟ کون کہاں سے کیا تبدیلی لائے گا؟ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا۔